چین نے آج بروز جمعرات میانمار کےجرائم پیشہ گروہوں سے منسلک 11 افراد کو پھانسی دے دی ہے۔ سزا پانے والے مجرموں میں ٹیلی کام فراڈ میں ملّوث مجرم بھی شامل تھے ۔
چین کی سرکاری خبر ایجنسی شن ہوا کے جاری کردہ بیان کے مطابق جرائم پیشہ جتھے میانمار کے لاقانونیت والے سرحدی علاقوں میں کئی بلین ڈالر کے غیر قانونی سیکٹر کا لازمی حصّہ ہیں اور نہایت تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
ان مراکز میں ، کئی چینیوں سمیت، عموماً غیر ملکی کام کرتے ہیں۔ متعدد افراد کا کہنا ہے کہ انہیں اسمگل کر کے لایا گیا اور لوگوں کو آن لائن دھوکہ دینے پر مجبور کیا گیا ہے۔
بیجنگ نے گذشتہ برسوں میں ان مراکز کے خلاف کاروائی کے لیے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تعاون میں اضافہ کیا ہے اور ہزاروں افراد کو چین واپس بھیجا جا چکا ہے۔
شِن ہُوا خبر نے کہا ہے کہ جمعرات کو پھانسی پانے والے 11 افراد کو ستمبر میں چین کے مشرقی شہر وینژو کی ایک عدالت نے سزائے موت سنائی تھی اور عدالت نے ہی ان سزاؤں کا نفاذ بھی کیا ہے۔
قطعی اور کافی
خبر کے مطابق، پھانسی پانے والوں پر عمدی قتل، عمدی ایذارسانی، غیر قانونی حراست، دھوکہ دہی اور جوئے کے اڈے چلانے جیسے جرائم کے الزامات تھے۔
شِن ہُوا کے مطابق، بیجنگ کی سپریم پیپلز کورٹ نے موت کی سزاؤں کی منظوری دی ہے اور جرائم کے 2015 سے پیش کیے گئے شواہد کو 'قطعی اور کافی' قرار دیا ہے۔
پھانسی پانے والوں میں، 14 چینی شہریوں کی ہلاکتوں اور کئی دیگر کو زخمی کرنے میں ملّوث 'منگ خاندان کے جرائم پیشہ گروہ' کے ارکان بھی شامل ہیں۔
شِن ہُوا نے مزید کہا ہےکہ مجرموں کے قریبی رشتہ داروں کو پھانسی سے قبل مجرموں کے قریبی رشتہ داروں کو ان سے ملنے کی اجازت دی گئی تھی۔











