یوکرین، روس اور امریکہ کے مذاکرات کار ابو ظبی میں یکجا ہو رہے ہیں تاکہ چار سالہ جنگ کو ختم کرنے کے حوالہ سے پیچیدہ مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
فریقین کے درمیان کئی دورِ سفارت کاری یورپ کے اس مہلک ترین تنازعے کو ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں، جو فروری 2022 میں شروع ہوا اور جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سب سے خونریز جنگ تصور کی جاتی ہے۔
مذاکرات سے پہلے روس کی بڑی ڈرون اور میزائل باری نے یوکرین کے توانائی نیٹ ورک کو شدید متاثر کیا اور انتہائی سرد موسم میں بجلی اور گیس کی ترسیل بند ہو گئی۔
،” یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلنسکی نے منگل کو کہا کہ ہر روسی حملہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ماسکو کے رویے تبدیل نہیں ہوئے، وہ جنگ اور یوکرین کی تباہی پر شرط لگائے ہوئے ہیں اور وہ سفارت کاری کو سنجیدہ نہیں لے رہا ۔
انہوں نے بغیر تفصیل بتائے کہا کہ ہماری مذاکراتی ٹیم کا کام اسی کے مطابق ڈھالا جائے گا ۔
ماسکو اس بات کا مطالبہ کر رہا ہے کہ کیف دونباس کے بڑے حصوں سے اپنی فوجیں نکالے، جن میں وہ شہر بھی شامل ہیں جو وسیع قدرتی وسائل اور اہم دفاعی اہمیت رکھتے ہیں اور وہ بین الاقوامی سطح پر یہ تسلیم بھی چاہتا ہے کہ حملے کے دوران قبضہ کیے گئے علاقے روس کے ہیں۔
کیف نے کہا ہے کہ تنازعہ موجودہ محاذ کے ساتھ منجمد ہونا چاہیے جبکہ اس نے یک طرفہ طور پر افواج کو پیچھے ہٹانے کو مسترد کیا ہے۔
یوکرین کی نمائندگی سلامتی کونسل کے سربراہ رستم اُمرُوف کی قیادت میں ہوگی جو اپنے ساتھیوں کے بقول ایک فطین مذاکرات کار ہیں اور انہیں سفارتی معجزے کرنے والا کہا جاتا ہے۔
روس کے مذاکرات کار فوجی انٹیلی جنس ڈائریکٹر ایگور کوستی کوف ہونگے، جو پیشہ ورانہ بحری افسر ہیں اور یوکرین کی جنگ میں اپنے کردار کی بناء پر مغرب نے ان پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
پچھلے ماہ ابو ظبی میں ہوئے مذاکرات کے ایک دور میں امریکی ٹیم کی قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معروف نمائندےا سٹیو وٹکوف نے کی تھی۔
روس، جو اپنے ہمسائے کے تقریباً 20 فیصد حصے پر قابض ہے اس نے دھمکی دی ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ دونیتسک کے باقی حصے پر بھی قبضہ کر لے گا۔
یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ زمین چھوڑ دینے سے ماسکو کی ہمت بڑھے گی اور وہ ایسا معاہدہ نہیں کرے گا جو روس کو دوبارہ حملے سے روکنے میں ناکام ہو۔
رائے شماریوں کے مطابق، یوکرینی عوام کی اکثریت ایسے معاہدے کے خلاف ہے جو امن کے بدلے ماسکو کو زمین دے دے۔
میدانِ جنگ میں روس نے بھاری انسانی قیمت ادا کر کے کامیابیاں حاصل کی ہیں اس میاد کے ساتھ کہ وہ کیف کی کمزور فوج کو طویل عرصے تک تھکائے اور اس پر عسکری برتری قائم رکھے۔
زیلنسکی اپنے مغربی شراکت داروں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ہتھیاروں کی فراہمی میں اضافہ کریں اور کریملن پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ بڑھائیں تاکہ حملہ روکا جا سکے۔








