پاکستانی سکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ آج بروز پیر ملک کے صوبہ بلوچستان کے جنوب مغربی علاقے میں مزید 22 عسکریت پسندوں کو غیر فعال کر دیا گیا ہے۔
حکام کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق باغی شدّت پسندوں کے خلاف جدوجہد کے دائرہ کار میں شروع کئے گئے اس چار روزہ فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 177 ہو گئی ہے۔
نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ایک سکیورٹی اہلکار نے اناطولیہ خبر ایجنسی کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ تازہ ہلاکتیں بروز ہفتہ صوبہ بلوچستان کے 12 مقامات پر مربوط حملوں کے بعد شروع کئے گئے سکیورٹی سرچ کے دوران ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق 31 شہریوں اور 17 سکیورٹی اہلکاروں کی اموات کا سبب بننے والے مذکورہ حملوں کی ذمہ داری ممنوعہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کر لی ہے ۔
فوجی آپریشن جمعے کے روز شروع ہوئے اور سخت سکیورٹی اقدامات کے سائے میں جاری ہیں۔
بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت 'کوئٹہ' اور کئی دیگر اضلاع میں موبائل اور انٹرنیٹ خدمات منقطع ہیں۔ علاوہ ازیں صوبے سے ملک کے دیگر حصوں کے لیے ریلوے خدمات آج تیسرے دن بھی معطل رہی ہیں۔
بلوچستان کے چیف سیکرٹری حمزہ شفقت نے کہا ہےکہ منگل کے دن سے منقطع رابطے بحال ہونے کی توقع ہے۔
دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ
یہ کشیدگی ملک گیر سطح پر پُر تشدد کاروائیوں میں اضافے کے دوران سامنے آئی ہے۔
پیر کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ماہِ جنوری کے دوران جھڑپوں کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتیں دسمبر کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ رہی ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مہینے کُل 361 افراد ہلاک ہوئے جن میں 242 عسکریت پسند، 73 شہری اور 46 سکیورٹی اہلکار شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں زخمیوں کی تعداد 135 ہے۔
ماہِ جنوری میں ملک بھر میں 87 دہشت گردانہ حملے کئے گئے اور یہ تعداد ماہِ دسمبر کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ ہے۔ ان میں سے 27 حملے بلوچستان میں کئے گئے جس کے بعد سے رواں مہینے کے آغاز میں نسبتاً پُرسکون دِکھائی دیتا معدنی وسائل سے مالا مال یہ صوبہ آپریشنوں کا مرکزی میدان بن گیا ہے ۔







