نائیجیریا کی فوج نے کہا ہے کہ اس کے دستوں نے ملک کے شمال مشرق میں ایک آپریشن کے دوران بوکو حرام کے ایک کمانڈر اور گروہ کے مزید 10 ارکان کو ہلاک کر دیا ہے ۔
فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ آپریشن اتوار کو بورنو ریاست کے سمبسا جنگل میں انجام دیا گیا۔
بیان میں ہلاک ہونے والے لیڈر کی شناخت ابو خالد کے طور پر بتائی گئی، جو سمبسا جنگل میں بوکو حرام کا نائب کمانڈر تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ملکی فوجیوں کا کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا جبکہ شمال مشرق کے جنگلاتی علاقوں میں انسداد دہشت گردی کی کاروائیاں جاری ہیں۔
بوکو حرام 2000 کی دہائی کے اوائل سے نائیجیریا میں سرگرم ہے، اور 2009 کے بعد سے حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بوکو حرام کے زیادہ تر متاثرین مسلمان ہیں۔
2015 کے بعد سے یہ گروہ ہمسایہ ملکوں کیمرون، چاڈ اور نائجر میں بھی حملے کر چکا ہے جس کے نتیجے میں لیک چاڈ بیسن میں کم از کم دو ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
علاقے میں دہشت گرد حملوں اور جاری جھڑپوں کے باعث لاکھوں افراد بھی بے گھر ہو چکے ہیں۔










