پاکستان
2 منٹ پڑھنے
بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری، ہلاکتوں کی تعداد 250 تک پہنچ گئی
افغانستان و ایران کی سرحد سے ملحقہ معدنی وسائل سے مالا مال صوبے میں  سکیورٹی فورسز، غیر ملکی شہریوں اور دوسرے صوبوں کے  عوام پر مسلح حملے معمول بن چکے ہیں۔
بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری، ہلاکتوں کی تعداد 250 تک پہنچ گئی
بلوچستان / AFP
15 گھنٹے قبل

 گزشتہ ہفتے  کے روز سے جاری دہشت گردانہ حملوں میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف حصوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔

 واضح رہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے بلوچ بغاوت سے نبردآزما ہے ۔

 افغانستان و ایران کی سرحد سے ملحقہ معدنی وسائل سے مالا مال صوبے میں  سکیورٹی فورسز، غیر ملکی شہریوں اور دوسرے صوبوں کے  عوام پر مسلح حملے معمول بن چکے ہیں۔

ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز میں 197 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان مربوط حملوں میں کم از کم 36 شہری اور 22 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

ہفتے کے آخر میں عسکریت پسندوں کی جانب سے بینکوں، جیلوں، تھانوں اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد کچھ اضلاع میں وقتی جھڑپیں ابھی تک جاری تھیں۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اتوار کو کوئٹہ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ حملوں کے متاثرہ تمام اضلاع کو کلیئر کر دیا گیا ہے،ہم ان کا پیچھا کر رہے ہیں  اور  انہیں اتنی آسانی سے جانے نہیں دیں گے۔

بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، صوبے کی سب سے زیادہ سرگرم مسلح علیحدگی پسند تنظیم، نے ایک بیان میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔

 یاد رہے کہ اس گروپ کو امریکہ نے بھی  دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے ۔

گروپ  نے کہا  ہے کہ اس نے فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ پولیس اور سول انتظامیہ کے اہلکاروں کو فائرنگ  اور خودکش دھماکوں میں نشانہ بنایا ہے ۔

گزشتہ چند برسوں میں بی ایل اے نے علاقے میں بر سر روزگار  دوسرے صوبوں کے عوام  اور غیر ملکی توانائی کمپنیوں کے خلاف حملوں میں شدت پیدا کر رکھی ہے۔

پچھلے سال دہشت گردوں نے ایک ٹرین پر حملہ کیا تھا جس میں 450 مسافر سوار تھے ۔

اقوام متحدہ نے  ان حالیہ حملوں کو “وحشیانہ اور بزدلانہ” قرار دیا ہے ۔

 

دریافت کیجیے