شام کے سکیورٹی دستے ملک کے شمال مشرقی صوبے ' الحسکہ ' کے شہر قامشلی میں داخل ہو جائیں گے۔
یہ بیان سلامتی دستوں کا شہر میں داخلہ ہونے سے چند گھنٹے بعد حسکہ داخلہ تحفظ کے سکیورٹی کمانڈر مروان العلی نے الاخباریہ ٹی وی کے لئے جاری کیا اور دہشت گرد تنظیم YPG کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے نفاذ کی خاطر سکیورٹی دستوں کے حاسکہ میں داخلے کی اطلاع دی ہے۔
مروان علی نے کوئی حتمی وقت بتائے بغیر کہا ہے" آج کثیر تعداد میں گاڑیاں اور وزارتِ داخلہ کا عملہ علاقے میں داخل ہو گیا ہے اسی طرح کی کاروائی قامشلی میں بھی کی جائے گی"۔
انہوں نے کہا ہے کہ" سمجھوتے کی شرائط نافذالعمل ہونے کے بعد پولیس دستے اور وائے پی جی سے منسلک دیگر سکیورٹی فورس وزارت داخلہ کے تحت کر دی جائے گی۔ صورتحال غیر یقینی ہے لہٰذا اشتعال انگیزیوں سے بچنے اور صحافیوں کے تحفظ کی خاطر ذرائع ابلاغ کو علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی"۔
انہوں نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ " اس وقت الحسکہ میں موجود سکیورٹی دستے اپنی پوزیشنوں پر حاضر ڈیوٹی رہیں گے اور اسی نوعیت کے ‘شہری نظم و ضبط کے محافظ’ دستے قامشلی میں بھی داخل ہو جائیں گے"۔
واضح رہے کہ الاخباریہ ٹی وی نے سوموار کی خبر میں کہا تھا کہ داخلہ سلامتی فورس الحسکہ میں داخل ہوگئی ہے اور مقامی رہائشیوں نے اس کا گرمجوش استقبال کیا ہے۔
اناطولیہ خبر ایجنسی کے نامہ نگار کے مطابق داخلہ سلامتی کا قافلہ الحسکہ کے مرکز کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ دستوں میں آٹھ بکتر بند گاڑیاں، چار عدد فور بائے فور گاڑیاں، ایمبولینسیں اور موبائل کمیونیکیشن یونٹ شامل تھے۔
معاہدے کے اطلاق کے دائرے میں شامی داخلہ سلامتی دستے ضلع عین العرب کے جنوبی گاؤں شیوخ میں بھی داخل ہو گئے ہیں۔
یہ اقدامات جمعہ کو حکومت کے اعلان کردہ 'جامع معاہدے' کے نفاذ کا حصہ ہیں۔ معاہدہ YPG دہشت گرد گروپ کے ساتھ طے پایا تھا۔ معاہدے کا مقصد ملک کی منقسم حالت کو ختم کرنا اور مکمل انضمام کے ایک نئے مرحلے کی بنیاد رکھنا ہے۔










