مصر سے متصل رفح بارڈز پر منگل کو غزہ واپس جانے والے فلسطینیوں کا دوسرا گروہ داخلے کے طریقہ کار کو مکمل کرنے کے لیے پہنچا۔ مصرى میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ علاقے کے واحد غیر اسرائیلی داخلی راستے کی محدود طور پر دوبارہ کھلنے کی ایک اور چھوٹی پیش رفت ہے۔
الا قاہرہ نیوز کے مطابق، واپس لوٹنے والے افراد طبی علاج اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے مصر گئے تھے۔ وہ غزہ لوٹنے کے لیے انتظامی کارروائیاں مکمل کرنے کے زیرِ مقصد بارڈر کو پہنچے ۔
یہ آمد اسرائیل کی طرف سے رفح کو جزوی طور پر دوبارہ کھولے جانے کے ایک دن بعد ہوئی، یہ کئی ماہ کی تقریباً مکمل بندش کے خاتمے کا عندیہ ہے۔
مصرى میڈیا کے مطابق، مصر سے واپس آنے والا پہلا گروہ پیر کی صبح رفح سرحدی چوکی کو پہنچا تھا۔
اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ منگل کو تقریباً 50 فلسطینیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی جبکہ تقریباً 150 مریض اور ان کے تیما دار علاج کے لیے اس علاقے سے مصر روانہ ہونے کے لیے شیڈول ہیں۔
ہزاروں مریض مکمل دوبارہ کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ غزہ کے صحت کے حکام کا اندازہ ہے کہ تقریباً 22,000 مریض بارڈر کے مکمل طور پر کھلنے کے منتظر ہیں۔
رفح انسانی امداد اور طبی امداد کی منتقلی کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
اسرائیلی فورسز نے مئی 2024 میں اس کراسنگ پر کنٹرول سنبھالا، جو غزہ پر جنگ کے آغاز کے تقریباً نو ماہ بعد ہوا۔ مقامی حکام کے مطابق اکتوبر 2023 سے اس جنگ میں اب تک 71,000 سے زائد افراد ہلاک اور 171,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
غزہ کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری رہے ہیں، جن کے نتیجے میں 524 افراد ہلاک اور 1,360 زخمی ہوئے ہیں۔
رفح بارڈرکو ابتدائی طور پر جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت اکتوبر میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ تھا، لیکن اسرائیل نے اس اقدام کو غزہ میں موجود اپنے آخری قیدی کی باقیات کی واپسی تک موخر کردیا تھا۔













