اسرائیلی وزیر اعظم بینیامین نیتن یاہو نے ایپسٹین فائلز پر دوبارہ توجہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پیش رو ایہود باراک پر تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ بدنام جنسی مجرم جیفری ایپسٹین "اسرائیل کے لیے کام نہیں کرتا تھا۔"
نیتن یاہو کے یہ تبصرے ایپسٹین فائلز کے منظر عام پر آنے کے بعد آئے ہیں، جن میں ایک 2020 کی ایف بی آئی دستاویز شامل ہے جو کہتی ہے کہ اس ارب پتی بچے فروش کو باراک کے تحت "جاسوسی کی تربیت دی گئی" تھی۔
جب ایپسٹین کے ماضی کے تعلقات بین الاقوامی میڈیا کی کوریج میں دوبارہ زیرِ بحث آئے تو نیتن یاہو نے نئی جاری شدہ دستاویزات پر اپنی پہلی عوامی رائے X پر دی۔
نیتن یاہو نے لکھا ہے کہ "ایپسٹین اور ایہود باراک کے درمیان غیر معمولی قریبی تعلق اس بات کا اشارہ نہیں دیتا کہ ایپسٹین اسرائیل کے لیے کام کرتا تھا۔ بلکہ اس کا ثبوت الٹ ہے،"
دی جروزلم پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ سابق وزیر اعظم باراک کے ایپسٹین سے تعلقات نے تازہ توجہ حاصل کی ہے، ان کی ملاقاتیں 2015 اور 2016 میں ہوئی تھیں، جو ایپسٹین کی پہلی مجرمانہ سزا کے کچھ سال بعد تھیں۔ اس وقت گردش کرتی تصاویر میں باراک کو نیویارک کے من ہیٹن میں ایپسٹین کے رہائشی گھر میں داخل ہوتے دیکھا گیا تھا۔
نیتن یاہو نے الزام لگایا کہ باراک نے طویل عرصے سے ان کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوششیں کیں، اور کہا کہ سابق وزیر اعظم 'بیس سال پہلے اپنی انتخابی ناکامی کے باوجود جامد رہے۔' انہوں نے مزید الزام لگایا کہ باراک نے 'عوامی طور پر اور پردۂ پشت سرگرمیوں میں حصہ لیا تاکہ اسرائیل کی حکومت کو نقصان پہنچایا جا سکے، جس میں بڑے احتجاجی تحریکوں کو ہوا دینا، بدامنی بھڑکانا اور غلط میڈیا بیانیے پھیلانا شامل ہے۔'
ایپسٹین کی فائلیں
باراک، نیتن یاہو کے ایک نمایاں نقاد رہے ہیں اور انہوں نے بارہا ان کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعہ کو امریکی ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹاڈ بلانچ نے ایپسٹین تحقیقات کے سلسلے میں تین ملین سے زائد اضافی فائلز جاری کرنے کا اعلان کیا۔
ایپسٹین، ایک امریکی سرمایہ کار جس پر نابالغوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر جنسی جرائم کے نیٹ ورک چلانے کا الزام تھا، 2019 میں نیویارک کی جیل میں حراست کے دوران مردہ پایا گیا تھا۔
فائلز میں متعدد بلند پایہ شخصیات کا ذکر ہے، جن میں باراک بھی شامل ہیں، تاہم دستاویزات میں کسی کا نام شامل ہونا براہِ راست کسی غلط کام کا اشارہ نہیں ہے۔
ایک 2020 کی ایف بی آئی دستاویز جو ایپسٹین فائلز میں شامل ہے، دعویٰ کرتی ہے کہ اس ارب پتی بچے فروش کو باراک کی سرپرستی میں "جاسوسی کی تربیت" دی گئی تھی۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایپسٹین بلیک میلنگ کے لیے موساد کا اثاثہ تھا، یہ دعوے اکثر ان کے یہودی پس منظر اور اسرائیلی روابط سے جوڑے گئے۔ ایسے بیانات کو سابق اسرائیلی خفیہ افسر اری بن-میناشے جیسے افراد نے بھی بڑھا چڑھا کر بتایا، جنہوں نے الزام لگایا کہ ایپسٹین اور ان کی گرل فرینڈ غیسلین میکس ویل 1980 کی دہائی سے اسرائیلی خفیہ اداروں کے لیے کام کرتے رہے۔ ایپسٹین نے میکس ویل کے والد رابرٹ میکس ویل کو بھی موساد کا اثاثہ قرار دیا تھا۔
مارچ 2018 میں ایپسٹین نے ایک نامعلوم وصول کنندہ کو خط لکھا، جس میں ایک کتاب سے طویل اقتباس شامل کیا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ میکس ویل کو اسرائیلی جاسوسوں نے اس لیے قتل کیا تھا کہ وہ ان کے لیے کیے گئے کاموں کو افشا کرنے کی دھمکی دے رہا تھا۔ ایپسٹین نے الزام لگایا کہ میکس ویل نے اپنے ڈوبنے والےکاروبار کو بچانے کے لیے 400 ملین پاونڈز ادا نہ کیے جانے کی صورت میں موساد آپریشنز افشا کرنے کی دھمکی دی تھی ۔ میکس ویل کی موت نومبر 1991 میں پراسرار رہی، جب وہ کینیری جزائر کے قریب اپنی کشتی سے گر گئے تھے۔
آئی سی سی کا مطالبہ
نیتن یاہو خود بدعنوانی کے الزامات پر ایک فوجداری مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ الزامات کیسز 1000، 2000 اور 4000 سے متعلق ہیں، جن میں انہیں 2019 کے آخر میں رشوت، فراڈ اور اعتماد کی خلاف ورزی کا موردِ الزام ٹہرایا گیا تھا۔
نومبر 2025 میں، نیتن یاہو نے کسی بھی سزا سے پہلے قانونی کاروائیوں کو روکے جانے کے لیے صدر آئزک ہروزگ سے باضابطہ طور پر معافی کی درخواست کی۔ یہ درخواست تاحال حل نہیں ہوئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی طور پر ان مقدمات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
نیتن یاہو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے بھی مطلوبہ ہیں، جس نے غزہ میں نسل کشی کے الزام کے حوالے سے اس اسرائیلی رہنما کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا ہے۔


















