غزہ وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے رہائی کے بعد 54 فلسطینیوں کی لاشیں اور انسانی جسمانی ٹکڑوں پر مشتمل درجنوں ڈبے غزہ منتقل کر دیئے گئے ہیں۔ لاشوں کی یہ واپسی بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے ذریعے طے پائی ہے۔
وزارتِ صحت نے بروز بدھ جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 54 لاشوں اور 66 انسانی اعضاءپر مشتمل ڈبےریڈ کراس کی گاڑیوں میں الشفا میڈیکل کمپلیکس پہنچائے گئے ہیں۔
طبی ٹیموں نے منظور شدہ طبی طریقہ کار کے مطابق فوراً عدلی طبّی معائنے کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
بیان کے مطابق متعلقہ حکام اور خصوصی کمیٹیوں کے تعاون سے معائنہ اور دستاویزی ریکارڈ کا کام جاری ہے۔
معائنے اور دیگر کاروائیاں مکمل ہونے کے بعد خاندانوں کو مقررہ پروٹوکول کے مطابق لاشوں کی شناخت کی اجازت دی جائے گی۔
فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ لاشوں کی یہ واپسی، اسرائیل کی طرف سے 10 اکتوبر کو نافذ ہونے والے مرحلہ وار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے دوران، طے پائی ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال ماہِ جنوری میں امریکہ کی اعلان کردہ جنگی بندی غزّہ سے اسرائیلی انخلاء اور غزہ کی تعمیرِ نو کے آغاز کے معاملات کا احاطہ کرتی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے غزّہ کی تعمیر نو کا تخمینہ تقریباً 70 بلین ڈالر لگایا ہے۔
دریں اثنا طبی ذرائع کے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی ثالثی میں جاری جنگ بندی کے باوجود بروز بدھ صبح کے وقت اسرائیل نے پناہ گزینوں کےخیموں، ایک گھر اور ایک سول سوسائٹی کو نشانہ بنایا ۔حملوں میں عورتوں اور بچوں سمیت 21 فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
فلسطین ہلالِ احمر کے مطابق غزّہ کے جنوب میں خان یونس کے علاقے المواسی کی گلی نمبر 5 کے اطراف میں کی گئی گولہ باری میں، طبّی عملے کے ایک رکن سمیت 2 فلسطینی شہید اور 12 زخمی ہوگئے ہیں۔
تنظیم نے مزید کہا ہے کہ زخمیوں کو المواسی میں ریڈ کریسنٹ کے فیلڈ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
















