دنیا
3 منٹ پڑھنے
جیفری ایپسٹین اسرائیلی ایجنٹ تھا: ایف بی آئی مخبر
ایپسٹین اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم ایہود بارک کے قریب تھا اور ان کے تحت ایک جاسوس کی تربیت حاصل کی تھی۔
جیفری ایپسٹین اسرائیلی ایجنٹ تھا: ایف بی آئی مخبر
جیفری ایپسٹین / AP
15 گھنٹے قبل

ایک خفیہ ایف بی آئی  مخبر نے کہا ہے کہ وہ یہ نتیجہ اخذ کر چکے تھے کہ بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین اسرائیلی جاسوس تھا۔

یہ بات ایک سرکاری دستاویز میں درج ہے جو گذشتہ ہفتے امریکی محکمہ انصاف نے لاکھوں صفحات کے ساتھ جاری کی۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس مخبر جسے خفیہ انسانی ماخذ (CHS) قرار دیا گیا ہے اس نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین کے وکیل ایلن ڈرس شاوِٹز نے اُس وقت کے جنوبی ضلعِ فلوریڈا کے امریکی اٹارنی الیکس اکوسٹا سے کہا کہ ایپسٹائن امریکہ اور حلیف خفیہ اداروں دونوں سے تعلق رکھتا تھا۔

"CHS نے ڈرس شاوِٹز اور ایپسٹین کے درمیان فون کالز شیئر  کیں۔

 ان کالز کے بعد موساد ڈرس شاوِٹز کو بریفنگ کے لیے فون کرتی تھی۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ  ایپسٹین اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم ایہود بارک کے قریب تھا اور ان کے تحت ایک جاسوس کی تربیت حاصل کی تھی,"

دستاویز مزید بتاتی ہے کہ بارک "سمجھتے تھے کہ نتن یاہو ایک مجرم ہیں اور مخبرقائل ہو گیا کہ ایپسٹین موساد کا ایجنٹ تھا، جس کا ذکر علاقائی حریفوں اور اس پر اسرائیل کے اثرات کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔

دستاویز میں ایک نوٹ بھی شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "پچھلی رپورٹس دیکھیں"، مگر واضح نہیں ہے کہ یہ کس رپورٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

مخبرنے ایف بی آئی کو مزید بتایا کہ ڈرس شاوِٹز نے مبینہ طور پر کہا کہ "اگر وہ دوبارہ جوان ہوتا تو ایک اسٹن گن لیے اسرائیلی خفیہ ایجنٹ کی حیثیت سے کام کر رہا ہوتا۔

"CHS کا یقین تھا کہ ڈرس شاوِٹز موساد کے زیرِ اثر تھا اور ان کے مشن کی پیروی کرتا تھا،" دستاویز میں لکھا ہے۔

محکمہ انصاف کی طرف سے جاری تازہ دستاویزات کے اس بیچ میں کئی نامور شخصیات کا ذکر ہے، جن میں ڈرس شاوِٹز اور سیاسی و مالیاتی حلقوں کے دوسرے افراد شامل ہیں۔

ایپسٹین کو 2019 میں نیویارک شہر کی ایک جیل میں اپنی سیل میں مردہ پایا گیا جب وہ جنسی سمگلنگ کے جرائم کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔

2008 میں انہوں نے فلوریڈا کی عدالت میں قصور قبول کیا  جنہیں نابالغوں کو بدکاری کے لیے فراہم کرنے کا مجرم قرار پایا، حالانکہ ناقدین نے اکوسٹا کی منظوری سے طے پانے والے اس معاہدے کو "اچھا سودا" قرار دیا۔

ایپسٹیئن کے متاثرین نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے امیر اور سیاسی اشرافیہ کے افراد کو شامل کرتے ہوئے ایک وسیع جنسی سمگلنگ کا جال بچھایا تھا۔

دوسری جانب ارب پتی بل گیٹس نے کہا ہے کہ  ان کا  ایپسٹین کے ساتھ گزارا گیا "ہر لمحہ" پچھتاوے کا باعث ہے۔

ایک انٹرویو میں، مائیکروسافٹ کے شریک بانی نے مجرمانہ قیدی کے ساتھ اپنے سابقہ تعلقات کے لیے معذرت کی اور ایپسٹائن کے نام سے منسوب ایک  ای میل میں کیے گئے وہ دعوے مسترد کیے جن میں کہا گیا تھا کہ گیٹس غیر ازدواجی تعلقات میں ملوث تھے۔

گیٹس نے اس ای میل کو غلط کہا اور کہا کہ یہ کبھی بھی بھیجی نہیں گئی۔

گیٹس کی سابقہ اہلیہ میلِنڈا فرنچ گیٹس نے کہا کہ دستاویزات کے  افشا  ہونے سے تکلیف دہ یادیں تازہ ہو گئیں اور زور دیا کہ ایپسٹین سے متعلق روابط کے بارے میں حل طلب سوالات کا جواب انہی لوگوں کو دینا ہوگا جو معاملے میں ملوث ہیں۔

گیٹس نے پہلے کہا تھا کہ وہ 2011 اور 2014 کے درمیان ایپسٹین سے کئی بار ملے تھے، اس امید میں کہ یہ مالی مدد عالمی صحت کے اقدامات کے لیے رقم اکٹھا کرنے میں معاون ثابت ہو گا اور اب وہ اس فیصلے کو ایک غلطی قرار دیتے ہیں۔