سیاست
4 منٹ پڑھنے
امریکی نائب صدر؛ جنگ کے خاتمے کے لئے ایران کو یورینیم افزودگی کی سطح کو کم کرنا ہو گا
اگر آپ ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے تو آپ کو 60% تک افزودہ ایندھن کیوں چاہیے؟ اور اگر آپ ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو اس حد تک  افزودہ ایندھن نہ بنائیں۔
امریکی نائب صدر؛ جنگ کے خاتمے کے لئے ایران کو یورینیم افزودگی کی سطح کو کم کرنا ہو گا
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پیر، 5 اکتوبر 2026 کو اینکریج کے ایلمنڈورف ایئر فورس بیس پر ایئر فورس ٹو سے اترنے کے بعد ٹارمیک پر چلتے ہوئے۔ / AFP

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے، واشنگٹن مذاکرات میں تہران کے فیصلے کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں غیر یقینی  کی صورتحال جاری ہونے کے باوجود  کہا ہے کہ امریکی مطالبات کو پورا کرنے اور ملک کی سات ماہ طویل جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو اپنے جوہری افزودگی کے حجم میں 'معنی خیز' کمی لانی ہوگی۔  

وینس، جو طویل عرصے سے بیرونی جنگوں میں امریکی مداخلت کے  حوالے سے  تذبذب  سے کام لیتے ہیں، نے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا اور ستمبر میں ایک عارضی امن معاہدہ کروایا جو قلیل مدت میں ہی کالعدم ہو گیا۔

رائٹرز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں وینس نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے ایران کو اپنے جوہری افزودگی کے حجم میں کمی لانا ہوگی،  اور مستقبل میں نام نہاد ایٹمی کمی کے وعدے کرنا  نا کافی ہوگا۔

وینس نے کہا" اگر آپ ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے تو آپ کو 60% تک افزودہ ایندھن کیوں چاہیے؟ اور اگر آپ ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو اس حد تک  افزودہ ایندھن نہ بنائیں۔ یہ ایک  بڑا بنیادی معیار کا معاملہ ہے۔"

"میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنی افزودگی کی صلاحیت پر کوئی معنی خیز قدم اٹھائیں گے۔"

وینس نے کہا کہ امریکہ معاہدے کے لیے کھلا ہے مگر اس کے لیے ایران کی جانب سے ٹھوس جوہری رعایتیں درکار ہوں گی۔ 'ہم محض باتوں  کے بدلے  عملی اقدامات  نہیں اٹھائیں گے۔'

تہران کے فیصلے کس طرح کیے جاتے ہیں، واضح نہیں

وینس نے کہا کہ واشنگٹن کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ تہران میں کون فیصلے کرتا ہے۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ وائٹ ہاؤس ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا۔ لیکن ان کے مطابق یہ واضح نہیں تھا کہ جنگ کے آغاز میں مشترکہ امریکی-اسرائیلی حملوں کے بعد، جنہوں نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا، وہ ایران کی طاقت کے ڈھانچے میں کتنی اتھارٹی رکھتے ہیں۔

وینس نے کہا"ایک بات جو ہمیں نظر آئی وہ یہ ہے کہ یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ ان کا ملک کیسے فیصلے کرتا ہے،" دوسری جناب  ٹرمپ نے  بھی اپنے بیان میں کہا  کہ ان کا 'سب سے بڑا مسئلہ' یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ ایران  کے ملکی نظام کو کون چلارہا ہے۔

ایران کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو کہا کہ امریکی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے ایرانی ہم منصب کون ہیں اور ایران کے فیصلہ سازی نظام کا طریقہ کار کیا ہے۔

وینس نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے میدانِ جنگ کی صورتحال جاننے کے لیے  جنگی کمانڈروں سے ذاتی بات چیت کی ہے۔

انہوں نے گولہ بارود  کے ذخائر میں نمایاں سطح کی کمی  کے بارے میں خدشات کومسترد کیا اور کہا کہ اگرچہ ایرانی فوجی وقتی طور پر آبنائے  ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں، وہ بڑی حد تک اس آبی  راستے کے ذریعے توانائی کی برآمدات کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔

یہ جنگ — اور اس کی ماہانہ 3 ارب ڈالر لاگت  — انتخابی مہم میں اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ توانائی کی بلند قیمتوں متحرک ریاستوں میں ٹرمپ اور ریپبلکنز کو دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا ہے جو کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ کریں گی۔

وینس کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے جانشین کے طور پر ایک اہم ریپبلکن امیدوار سمجھا جاتا ہے۔

وینس نے بعد میں رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ 2028 میں صدارت کی دوڑ میں حصہ لیں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا 'میں فطری طور پر ایک ٹال مٹول کرنے والا آدمی ہوں' 'میں نے اس بارے میں واقعی زیادہ  نہیں سوچا۔'

 

دریافت کیجیے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک