دنیا
2 منٹ پڑھنے
نکارا گوا،ہونڈوراس اور نیپال کے مہاجر واپس جائیں گے:امریکی عدالت
نائنٹھ سرکٹ اپیل کورٹ نے پیر کو فیصلہ دیا کہ حکومت ملک بدری کا عمل جاری رکھ سکتی ہے جب تک وہ اس زیریں  عدالت کے فیصلے کی اپیل کر رہی ہے جس نے ان تین قومیتوں کے لیے عارضی حفاظتی حیثیت (TPS) کے خاتمے کو روکا تھا
نکارا گوا،ہونڈوراس اور نیپال کے مہاجر واپس جائیں گے:امریکی عدالت
ٹرمپ / Reuters
10 فروری 2026

امریکی اپیل کورٹ نے ہونڈوراس، نیپال اور نکاراگوا کے تارکین وطن کی ملک بدری کے راستے کھول دیے ہیں، اور اس طرح ٹرمپ انتظامیہ کے اُس اہم اقدام کی حمایت کی ہے جو طویل عرصے سے جاری انسانی بنیاد پر دی جانے والی حفاظتی مراعات کو واپس لینے کی کوشش کرتا ہے۔

نائنٹھ سرکٹ اپیل کورٹ نے پیر کو فیصلہ دیا کہ حکومت ملک بدری کا عمل جاری رکھ سکتی ہے جب تک وہ اس زیریں  عدالت کے فیصلے کی اپیل کر رہی ہے جس نے ان تین قومیتوں کے لیے عارضی حفاظتی حیثیت (TPS) کے خاتمے کو روکا تھا۔

اس حکم نے عارضی طور پر اس وفاقی جج کے فیصلے پر روک لگا دی ہے جس نے پروگرام ختم کرنے کے انتظامی فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔

TPS ایسے ممالک سے آنے والے افراد کو جو جنگ، قدرتی آفات یا غیر معمولی حالات کا سامنا کر رہے ہوں، امریکہ میں قانونی طور پر رہنے اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

یہ تحفظات 1998 میں ہریکین مچ کے بعد پہنچنے والے 51,000 سے زائد ہونڈوراس کے باشندوں اور تقریباً 3,000 نکاراگوا کے باشندوں کے لیے ہیں، نیز 2015 کے زلزلے کے بعد یہ حیثیت دیے جانے والے قریباً 7,000 نیپالیوں کو بھی شامل ہیں۔

گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ نے TPS کو منسوخ کرنے کی کوشش کی، اس دلیل کے ساتھ کہ متاثرہ ممالک میں حالات اتنے بہتر ہو گئے ہیں کہ محفوظ واپسی ممکن ہے۔

قومی سلامتی امور  کی سیکرٹری کرسٹی نوم نے پیر کو اس موقف کی تائید کی اور کہا کہ ’TPS کو کبھی مستقل رہنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا۔

تاریخی طور پر، امریکی صدور نے باقاعدگی سے TPS کی تقرریاں تجدید کی ہیں، جس سے فائدہ اٹھانے والوں کو دہائیوں تک رہنے کی اجازت ملتی رہی۔

تاہم ٹرمپ نے بڑے پیمانے پر ملک بدر کرنے کی مہم چلانے کا عہد کیا ہے، اور عارضی حفاظتی مراعات کے خاتمے کو اپنی امیگریشن ایجنڈے کی بنیاد بنا دیا ہے۔

حقوقِ انسانی کے حامی خبردار کرتے ہیں کہ اپیل کورٹ کا فیصلہ قانونی لڑائی ختم ہونے سے پہلے ہزاروں افراد کو ملک بدری کے خطرے کے سامنے لا سکتا ہے، جبکہ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ یہ حکم امیگریشن پالیسی پر انتظامی اختیارات کو بحال کرتا ہے

 

دریافت کیجیے
ترکیہ: اردوعان۔ماکرون ملاقات
پاکستان میں 21 گھنٹے کے طویل امریکہ۔ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے
امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی: ایران ذرائع ابلاغ
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع
ایران جنگ می امریکی طیارہ نما ڈراون طیاروں کو وسیع پیمانے کا نقصان
اسرائیل کے غزہ کے ایک مہاجر کیمپ پر حملے میں فلسطینی شہری شہید
امریکی خفیہ رپورٹ کے مطابق چین ایران کو دفاعی فضائی نظام فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے
امریکی نائب صدر جے ونس امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے
اسرائیل کا دعویٰ: ہم  نے ایران جنگ کے دوران 10,800 ہوائی حملے کیے ہیں
میلانیا ٹرمپ: میرے  جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین سے کبھی کوئی تعلقات نہیں رہے
مشرق وسطی میں ایرانی ڈرونز گرانے میں مدد کی ہے:زیلنسکی
اسرائیل انسانیت کے لیے ایک "کینسر ہے": خواجہ آصف
ایرانی سینیئر سفارتکار  امریکہ۔اسرائیل دہشت گرد حملے میں ہلاک
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے
ٹرمپ: امریکی فوجیں علاقے میں موجود رہیں گی