ایران کے ایٹمی توانائی ادارے نے کہا ہے کہ بُوشہر جوہری پاور پلانٹ پر امریکی اور اسرائیلی حملے میں ایک گولہ تنصیب کے احاطے میں گِرا ہے تاہم تنصیب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ایران کی سرکاری خبر ایجنسی 'اِرنا' نے ایٹمی توانائی ادارے کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 9 بج کر 8 منٹ پر جنوبی شہر 'بُوشہر'کی تنصیب کے قریب ایک حملہ کیا گیا ہے۔
جاری کردہ بیان میں ادارےنے کہا ہے کہ "امریکی اور صہیونی دشمن نے بوشہر جوہری پاور پلانٹ کی جگہ پر دوبارہ حملہ کیا ہے اور ایک گولہ بوشہر پاور پلانٹ کے احاطے کے اندر گرا ہے"۔
مزید کہا گیا ہے کہ " ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعے سے تنصیب کو کوئی مادی یا تکنیکی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کوئی انسانی جانی نقصان ہوا ہے۔علاوہ ازیں پاور پلانٹ کے مختلف حصے بھی محفوظ ہیں"۔
اِرنا نے اس حملے کو امریکہ اور اسرائیل کی جاری 'مخاصمانہ کارروائیوں' کا حصّہ قرار دیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی جانی یا مالی نقصان درج نہیں کیا گیا اور جوہری تنصیب کے تمام حصے سالم ہیں۔
یہ حملہ حالیہ دنوں میں جوہری تنصیب کے قریب دوسرا حملہ ہے۔
17 مارچ کو بھی اسی نوعیت کا حملہ ہوا تھا۔ اس میں بھی کسی مادی نقصان کی یا کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی تھی۔













