دنیا
2 منٹ پڑھنے
کوردوفان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث 4,000 سے زائد شہری سوڈان سے فرار: اقوام متحدہ
تین کوردوفان ریاستوں میں فوج اور پیرا میلیٹری آر ایس ایف کے درمیان سخت لڑائی جاری ہے جس سے لاکھوں لوگ راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔
کوردوفان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث 4,000 سے زائد شہری سوڈان سے  فرار: اقوام متحدہ
The displaced people moved to various locations in North Kordofan, South Kordofan and White Nile states. / Reuters
31 دسمبر 2025

بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی بدامنی کے باعث گزشتہ تین دنوں میں سوڈان کے جنوبی حصے میں واقع جنوبی اور شمالی کورڈوفان ریاستوں سے 4,000 سے زائد شہری فرار ہو گئے ہیں۔

بیان میں اقوامِ متحدہ ایجنسی نے اطلاع دیہے کہ 27 تا 29 دسمبر جنوبی کوردوفان کے علاقے الا-کوییک سے 1,500 تا 2,500 افراد، جبکہ  اسی ریاست کے علاقوں کدوگلی سے 375 اور ڈِلنگ سے 495 افراد بے گھر ہوئے۔

بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت نے کہا ہے کہ یہ بے گھر افراد شمالی کوردوفان، جنوبی کوردوفان اور وائٹ نائل ریاستوں کے مختلف مقامات کی جانب منتقل ہوئے۔

شمالی کوردوفان میں، تنظیم نے جبرات ال-شیخ کے علاقے کی دیہات اَم تغیرات اور ال-مرخہ سے 1,020 افراد کے بے گھر ہونے کا ریکارڈ کیا، اور بتایا کہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث وہ لوگ  دارالحکومت خرطوم کے مغرب میں واقع امدرمان کی طرف فرار ہو گئے ہیں۔

اتوار کو IOM نے ان دونوں ریاستوں سے اسی وجہ سے 1,290 افراد کے بے گھر ہونے کا اعلان کیا تھا۔

کوردوفان کی تینوں ریاستیں — شمالی، مغربی اور جنوبی — فوج اور نیم عسکری تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان ہفتوں طویل شدید لڑائی     کے ماحول سے متاثر ہیں ، جس کے نتیجے میں ہزاروں  افراد  نے راہ ِفرار  اختیار کی ہے۔

سوڈان کی 18 ریاستوں میں سےرسے پانچ پر  ریپڈ  فورسسز کاکنٹرول ہے، حالانکہ شمالی دارفور کے کچھ شمالی حصے ابھی بھی فوج کے قبضے میں ہیں۔  جبکہ ملکی فوج باقی 13 ریاستوں کے زیادہ تر علاقوں پر قابض ہے، جو ملک کے جنوبی، شمالی، مشرقی اور وسطی حصوں میں واقع ہیں اور جن میں دارالحکومت خرطوم بھی شامل ہے۔

سوڈانی فوج اور RSF کے درمیان تنازعہ، جو اپریل 2023 میں شروع ہوا، تب سے ہزاروں افراد کی ہلاکت اور لاکھوں لوگوں کی بے دخلی کا سبب بنا ہے۔