سیاست
2 منٹ پڑھنے
ٹرمپ نے بائیڈن کے دور کے حکام پر امریکی قانون سازوں کی پوشیدہ نگرانی کی منظوری دینے کا الزام لگایا
ان انتہا پسند بائیں بازو کے جنونیوں کے خلاف  ان کے غیر قانونی اور انتہائی غیر اخلاقی رویے پر عدالتی کاروائی کی جانی چاہیے!"
ٹرمپ نے بائیڈن کے دور کے حکام پر امریکی قانون سازوں کی پوشیدہ نگرانی کی منظوری دینے کا الزام لگایا
US President Donald Trump looks on while boarding Air Force One before departing for Asia from Joint Base Andrews in Maryland on October 24, 2025. / Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے سینئر حکام پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے قانون سازوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک خفیہ نگرانی پروگرام کی منظوری دی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر لکھا، "دستاویزات واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ کرسٹوفر رے، ڈیرینجڈ جیک اسمتھ، میرک گارلینڈ، لیزا موناکو، اور دیگر بدعنوان افراد، جو ناکام بائیڈن انتظامیہ کا حصہ تھے، نے 'آپریشن آرکٹک فراسٹ' کی منظوری دی۔"

ٹرمپ نے کہا کہ اس آپریشن میں کانگریس کے اراکین کی جاسوسی اور ان کی فون کالز کی ریکارڈنگ شامل تھی۔ انہوں نے مزید کہا، "انہوں نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں دھوکہ دہی اور دھاندلی کی۔"

ٹرمپ نے مزید کہا، "ان انتہا پسند بائیں بازو کے جنونیوں کے خلاف  ان کے غیر قانونی اور انتہائی غیر اخلاقی رویے پر عدالتی کاروائی کی جانی چاہیے!"

جمعرات کو سینیٹ جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین چک گراسلی کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق، سابق اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ، ڈپٹی اٹارنی جنرل لیزا موناکو، اور ایف بی آئی ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کے دستخط 4 اپریل 2022 کو 'آرکٹک فراسٹ' تحقیقات کی منظوری پر موجود ہیں۔

'دی نیویارک پوسٹ' نے رپورٹ کیا  ہے کہ یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب گراسلی نے اعلان کیا کہ ان کی کمیٹی نے محکمہ انصاف کی مبینہ نگرانی کی سرگرمیوں سے متعلق مواد حاصل کیا ہے۔