سیاست
3 منٹ پڑھنے
روس-امریکہ سربراہی اجلاس کا دارومدار امریکی فیصلے پر ہے، لاوروف
ہم مہذب لوگ ہیں۔ جب ہمیں مدعو کیا جاتا ہے، تو ہم کہتے ہیں، جی ہاں، آئیے طے کریں کہ کب، کہاں اور کیسے۔ پھر یہ دعوت منسوخ کر دی جاتی ہے۔
روس-امریکہ سربراہی اجلاس کا دارومدار امریکی فیصلے پر ہے، لاوروف
(FILE) Lavrov says the future of territories in Ukraine is being discussed in various formats. / Reuters

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس-امریکہ سربراہی اجلاس کے امکانات واشنگٹن پر منحصر ہیں۔

انہوں نے اتوار کو ہنگری کے یوٹیوب چینل الٹراہنگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، "صدر (ڈونلڈ) ٹرمپ نے صدر (ولادیمیر) پوتن کو بڈاپسٹ میں ملاقات کی تجویز دی۔ صدر پوتن نے کہا، آئیے تیاری کا کام شروع کریں۔"

لاوروف نے کہا کہ ماسکو ممکنہ روس-امریکہ سربراہی اجلاس کے لیے تیار ہے، لیکن اس کی پہل واشنگٹن کی طرف سے ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا، "ہم مہذب لوگ ہیں۔ جب ہمیں مدعو کیا جاتا ہے، تو ہم کہتے ہیں، جی ہاں، آئیے طے کریں کہ کب، کہاں اور کیسے۔ پھر یہ دعوت منسوخ کر دی جاتی ہے، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کل وائٹ ہاؤس میں کہا۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ 'منسوخ' کا مطلب 'ملتوی' ہے۔ یہ ان پر منحصر ہے جنہوں نے اس عمل کا آغاز کیا۔"

لاوروف نے کہا کہ ان کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اچھی گفتگو ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا، "یہ پہل امریکہ کی طرف سے تھی۔ جیسا کہ میں نے کہا، میں نے سنا کہ محکمہ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ روبیو اور لاوروف کے درمیان فون پر گفتگو اچھی اور نتیجہ خیز تھی۔ اور یہ اتنی اچھی تھی کہ فی الحال ہمیں کسی ملاقات کی ضرورت نہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "جب ہم نے مارکو روبیو کے ساتھ (اگست میں الاسکا میں ٹرمپ اور پوتن کے درمیان سربراہی اجلاس کے) نتائج پر بات کی، تو انہوں نے کسی نئی ملاقات یا گفتگو کا ذکر نہیں کیا۔ اور میں نے اس مسئلے کو نہیں اٹھایا، کیونکہ یہ  پہل امریکہ کی طرف سے تھی۔ اور ہم اس وقت تیار ہوں گے جب امریکی خود کو تیار محسوس کریں گے۔"

لاوروف نے کہا کہ یوکرین کے علاقوں کے مستقبل پر مختلف فارمیٹس میں بات چیت ہو رہی ہے، اور بتایا کہ پیوٹن نے اس معاملے پر ٹرمپ، ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان، سلوواک وزیر اعظم رابرٹ فیکو اور دیگر متعلقہ رہنماؤں سے بات کی ہے۔

انہوں نے کہا، "ہمیں ایک بفر زون کی ضرورت ہے، کیونکہ یوکرینی روسی علاقوں پر گولہ باری، بمباری اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر کبھی کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ میرا مطلب ہے، برائنسک، بیلگوروڈ، کورسک۔"

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یوکرین میں روس کے مقاصد تبدیل نہیں ہوئے ہیں، اور کہا کہ کیف کو غیر جانبدار رہنا چاہیے، نیٹو میں شامل ہونے سے گریز کرنا چاہیے، جوہری ہتھیار رکھنے سے باز رہنا چاہیے اور روسی بولنے والوں کے حقوق کی ضمانت دینی چاہیے۔

لاوروف نے کہا، "اب یورپی لوگ جنگ بندی کے بارے میں بیانیے کے ساتھ ایجنڈے پر حاوی ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔" انہوں نے یوکرین اور یورپی ممالک پر روس-امریکہ تعلقات کی مخالفت کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ یوکرین میں غیر مشروط جنگ بندی کے حق میں ہیں اور اس مسئلے پر واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کو "غلطی" قرار دیا اور کہا کہ ماسکو ایسے اقدامات کو علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے۔

 

دریافت کیجیے
یوکرین کے رات گئے روس پر حملے میں دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے
اسرائیل کا جنوبی شام پر حملہ،گوتیرس علاقے میں
برازیل: فلاویو بولسونارو نےاپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا
ایران کے خلاف عسکری کاروائیوں میں تیزی  فی الوقت روک دی ہے:ٹرمپ
برلن میں گاڑی ہجوم پر چڑھ گئی،1 شخص ہلاک،متعدد زخمی
اسرائیل کی 763 نئے غیر قانونی آباد کاری کے یونٹوں کی منصوبہ بندی
یوکرین کا ایرانی جہاز پر حملہ،ایران کی جوابی کاروائی
نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے میں 'وسیع پیمانے پر' فوجی آپریشن کا حکم
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے