رائے
دنیا
2 منٹ پڑھنے
ایک دور کی مضبوط ترین معیشت، جرمنی بدلتی دنیا میں کیوں کر مشکلات سے دو چار ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ امریکی صدر بننے  پر  ہائی ٹیرف عائد کیے جانے کا امکان جرمنی کے معاشی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے
00:00
ایک دور کی مضبوط  ترین معیشت،   جرمنی بدلتی  دنیا میں کیوں کر  مشکلات سے دو چار ہے؟
جرمنی کی معیشت / AP

جرمنی  کو  یورپ کی سب سے بڑی معیشت  کی حیثیت سے،  عالمی تجارت میں ہونے والی تبدیلیوں کے دباؤ میں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ امریکی صدر بننے  پر  ہائی ٹیرف عائد کیے جانے کا امکان جرمنی کے معاشی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

امریکہ جرمنی کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ 2023 میں جرمنی نے امریکہ کو 157.9 بلین یورو کی برآمدات سر انجام دیں۔ تاہم، ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد، یورپی اشیاء پر 10 فیصد اور چینی مصنوعات پر 60 فیصد محصولات عائد کر سکتے ہیں۔ یہ خطرہ امریکہ میں جرمنی کے مارکیٹ شیئر کو کمزور کر سکتا ہے اور اس کی برآمدات میں 15% کی کمی کا موجب  بن سکتا ہے۔

جرمن معیشت مہنگائی اور وسیع  پیمانے پر نوکریوں سے فارغ کیے جانے کے خلاف  نبرد آزما ہے۔ معروف کمپنیاں ووکس ویگن، تھیسنکرپ اور ڈوئچے باہن ہزاروں کی تعداد میں ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ یہ صورت حال پہلے سے ہی مشکلات کا شکار معیشت کو مزید غیر مستحکم بنا رہی  ہے۔

 

https://www.youtube.com/watch?v=igNrUsGz-yE&ab_channel=MoneyTalks 

 

جرمنی کی  بتدریج عمر رسیدہ ہونے والی  آبادی ہنرمند افراد  کے فقدان کا موجب   بن رہی ہے جس سے اس کا غیر ملکی افرادی قوت  پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ بین الاقوامی ٹیلنٹ کو راغب کرنے کے لیے ملک کو مزید مثبت پالیسیاں اپنانا ہوں گی۔

اپنے اقتصادی  دارو مدار  پر نظر ثانی کرنے کا ہدف بنانے والا  جرمنی، اس تناظر میں ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ترکیہ کی متحرک افرادی قوت اور بڑھتی ہوئی صنعت جرمنی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم موقع  ہے۔

عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے اور ملکی  معاشی چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے جرمنی کو ایک اسٹریٹجک تبدیلی اور اختراعی حل کے حصول پر کام کرنا ہو گا۔ یہ تبدیلی ملک کے معاشی مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے اور اس کی عالمی مسابقت میں اضافہ کر سکتی ہے۔

https://trt-global.com/world/article/a10cce50c201 

دریافت کیجیے
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"
اسرائیل نے تازہ خلاف ورزیوں میں چار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے
امریکہ نے ایران پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا