بنگلہ دیش میں اہم سیاسی شخصیات اور وز رتِ اعظمیٰ کے امیدواروں نے عام انتخابات کے لئے مہم چلانے کی سرکاری مہلت کے اختتام سے قبل بروز سوموار قوم سے آخری خطاب کئے ہیں۔
ملک میں جولائی 2024 میں شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلے عام انتخابات بروز جمعرات منعقد ہو رہے ہیں۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کی سابق اتحادی ' بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی پارٹی' انتخابات میں دو اہم اتحادوں کی قیادت کر رہی ہیں۔ جولائی 2024 کی عوامی بغاوت کی قیادت کرنے والے طلبہ کی قائم کردہ 'نیشنل سٹیزن پارٹی' (این سی پی)اپنی زیرِ قیادت اتحاد میں شامل ہے۔
چند سروے رپورٹوں کے مطابق یہ انتخابات کسی ایک اتحاد کے لیے آسان فتح نہیں سمجھے جا رہے کیونکہ مقابلہ سخت ہے اور انتخابات پر 'زیڈ نسل' کے نام سے پہچانے جانے والے نوجوان ووٹروں کا قابلِ ذکر اثر دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ نوجوان بدعنوانی سے پاک اور جوابدہ حکومت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
پیر کی رات ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں بی این پی کے چیئرمین اور وزارتِ اعظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان نے اپنے انتخابی منشور پر بات کرتے ہوئے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور جامعیت کے اصول پر معاشرے کی تعمیر کا وعدہ کیا ہے۔
سابق وزیرِ اعظم خالده ضیا کے صاحبزادے'طارق رحمان' نے مزید کہا ہے کہ "کامیابی کی صورت میں بی این پی کی حکومت ملک میں بدعنوانی پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن سختی اپنائے گی اور قانون کی بالادستی بحال کی جائے گی"۔
بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے اپنے خطاب میں ہم وطنوں پر زور دیا ہے کہ ایک نئے بنگلہ دیش کی تعمیر کے لئے اخلاقی سوچ اختیار کی جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جولائی 2024 کی بغاوت امتیازیت کے خاتمے، سیاسی رجحان میں تبدیلی اور خاندانی سیاسی نظام کے تسلط سے آزادی کے لیے کی گئی تھی۔
انتخابات کے دن بنگلہ دیش میں چار اہم اصلاحاتی پیکجوں پر ریفرنڈم بھی کرائے جائیں گے۔
بنگلہ دیش کے مشیر اعلیٰ محمد یونس نے انتخابات کو ملک کے لیے فیصلہ کن قرار دیا اور کہا ہے کہ "اگر ریفرنڈم میں 'مثبت' ووٹ غالب رہے تو ملک کی تقدیر بدل جائے گا اور بدانتظامی کا خاتمہ ہو جائے گا"۔
واضح رہے کہ جولائی 2024 کی عوامی بغاوت نے شیخ حسینہ کے پندرہ سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا تھا۔ بغاوت کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔












