اسرائیلی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے بروز منگل رات دیر گئے، فلسطینی قیدیوں کی پھانسی کو قانونی شکل دینے پر مبنی، ایک مسودہ بل کی منظوری دے دی ہے۔
توقع ہے کہ یہ بل اگلے ہفتے کنیسٹ کی جنرل اسمبلی کے سامنے دوسری اور تیسری نشست میں رائے شماری کے لیے پیش کیا جائے گا۔یہ نشستیں مسّودے کے قانون بننے سے پہلے کے آخری اقدامات ہیں۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے KAN کے مطابق کمیٹی نےپہلی رائے شماری سے منظوری لینے والے اس بل میں کچھ ترامیم کیں ہیں۔ ترامیم کی رُوسے قیدیوں کو پھانسی کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔
سزائے موت پانے والوں کو ایک علیحدہ حراستی مرکز میں رکھا جائے گا جہاں مجاز عملے کے علاوہ ملاقاتیں منع ہوں گی اور وکلاء سے مشاورت صرف ویڈیو رابطے کے ذریعے ممکن ہوگی۔
بِل کی رُو سے فیصلے کے نوّے دنوں کے اندر پھانسی دے دی جائے گی۔فیصلے پر صفائی کی اپیل نہیں کی جا سکے گی۔ سزائے موت کے لیے اتفاقِ رائے ضروری نہیں ہوگا اور معمولی اکثریت فیصلے کو نافذ کر دے گی۔
کوئی اپیل نہیں
اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقے کے فلسطینیوں کو سزائے موت سنائے جانے کی صورت میں فیصلہ قطعی ہو گا اور اس پر غور کی اپیل کے راستے بند ہو جائیں گے۔
وہ قیدی جن کے مقدمات اسرائیل میں چلائے گئے ہوں ان کی سزائے موت عمرِ قید میں تبدیل ہو سکے گی۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گِویر نے اس بل کا خیرمقدم کیا اور اسے 'ایک تاریخی دن' قرار دیا ہے۔
اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے غزہ پر مسّلط کردہ نسل کشی جنگ کے آغاز کے بعد سے فلسطینی قیدیوں پر اور خاص طور پرغزّہ کے قیدیوں پر تشدد میں اضافہ کر دیا ہے ۔
حقوقِ انسانی کے گروپوں کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں، فلسطینی قیدیوں کو بھوکا رکھنے، تشدد کا نشانہ بنانے ، جنسی زیادتی کرنے اور طبی دیکھ بھال سے محروم رکھنے کی کاروائیوں پر، منظم شکل میں عمل کیا جا رہا ہے۔


















