غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیلی حملے کسی بھی ملک کے لیے امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں، وزیر اعظم قطر
"ایسے حملوں کا تسلسل صرف قطر کو نشانہ نہیں بناتا، بلکہ یہ کسی بھی ایسے ملک کو دھمکی دینے کی واضح کوشش ہے جو امن کے قیام کے لیے کام کر رہا ہو، اور یہ اقوام متحدہ پر اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔"
اسرائیلی حملے کسی بھی ملک کے لیے امن کی کوششوں کو سبوتاژ  کر رہے ہیں، وزیر اعظم قطر
اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کا نیویارک میں واقع ہیڈ کوارٹر میں ہنگامی اجلاس / Reuters
12 ستمبر 2025

قطری  وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ اسرائیلی حملے نہ صرف قطر بلکہ کسی بھی ایسے ملک کو نشانہ بنار ہے  ہیں جو  قیام ِامن کے لیے کام کر رہا ہو،  انہوں نے اس ہفتے دوحہ پر حملے کو غزہ میں جنگ بندی کی بات چیت کو سبوتاژ کرنے کی واضح کوشش قرار دیا۔

شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے کہا، "ایسے حملوں کا تسلسل صرف قطر کو نشانہ نہیں بناتا، بلکہ یہ کسی بھی ایسے ملک کو دھمکی دینے کی واضح کوشش ہے جو امن کے قیام کے لیے کام کر رہا ہو، اور یہ اقوام متحدہ پر اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔"

انہوں نے انہوں نے اس ہفتے دوحہ میں حماس کے مذاکرات کاروں پر اسرائیل کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے  مزید کہا، "یہ حملہ اقوام متحدہ کے رکن ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ یہ حملہ ان ممالک کے مہذب رویے سے بہت دور ہے جو امن پر یقین رکھتے ہیں۔"

یہ حملہ، جس میں حماس مزاحمتی گروپ کے پانچ ارکان اور ایک قطری سیکیورٹی افسر ہلاک ہوئے، اس وقت ہوا جب گروپ ایک امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی کی تجویز پر بات کر رہا تھا۔

شیخ محمد نے کہا کہ یہ حملہ واضح کرتا ہے کہ اسرائیل "طاقت کے ذریعے خطے کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے" اور اپنے اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لیے "بنیاد پرست خیالات" پر انحصار کر رہا ہے۔

انہوں نے سوال کیا، "ہم اسرائیلی نمائندوں کی میزبانی کیسے کر سکتے ہیں جب انہوں نے یہ حملہ کیا ہے؟ کیا آپ نے کبھی کسی ریاست کو اس طرح ایک ثالث پر حملہ کرتے ہوئے سنا ہے؟"

مصالحت پر زور

قطری رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ دوحہ مصالحت اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، لیکن خبردار کیا کہ وہ اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کو برداشت نہیں کرے گا۔

انہوں نے اسرائیلی قیادت پر "خون کے پیاسے انتہا پسند" ہونے کا الزام لگایا جو "اپنے اقدامات کے لیے استثنیٰ کا یقین رکھتے ہیں" اور غزہ میں نسل کشی کرتے ہوئے وسیع تر خطے کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امن کے لیے فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، غزہ تک انسانی رسائی اور دو ریاستی حل کی ضرورت ہے۔

اسی اجلاس میں اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفدی نے اسرائیل کو "ایک باغی حکومت قرار دیا جو معصوم لوگوں کے خون میں ڈوبی ہوئی ہے" اور جو خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی منظم خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر قحط مسلط کر رہی ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے "تکبر" کوتوڑنے اور اس کے "تباہ کن اقدامات" سے خطے کو بچانے کے لیے "فوری اور مؤثر" کاروائی کرے۔

دوحہ نے 2012 سے واشنگٹن اور تل ابیب کی درخواست پر حماس کے سیاسی دفتر کی میزبانی کی ہے اور مصر کے ساتھ بار بار جنگ بندی کی کوششوں میں ثالثی کی قیادت کی ہے۔

اسرائیلی حملے نے ان کوششوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، لیکن قطر نے ان کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

 

دریافت کیجیے
ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی پانچویں رکن نے بھی آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست واپس لے لی
امریکہ کا ایران کے خلاف جنگ کا بل 12 ارب ڈالر ہے: وائٹ ہاؤس
آسکر ایوارڈز: مائیکل بی جارڈن بہترین اداکار اور جیسی بکلی  بہترین اداکارہ قرار
یوکرین کے ڈرون حملے، روسی تیل کے ذخائر نشانے پر
افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات میں اضافے کے وقت پاکستان کا قندھار پر حملہ
حلیف ممالک نے ایران کے خلاف جنگ میں مدد نہیں کی تو نیٹو کا مستقبل بہت برا ہو گا:ٹرمپ
لبنان میں بری کاروائی کا امکان،اسرائیل کافوجی نفری کی تعداد بڑھانے پر غور
اسرائیلی سیکیورٹی افسران کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ متوقع رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہی
غزہ پر اسرائیلی فضائی حملہ، ایک بچے اور حاملہ عورت سمیت 4 فلسطینی ہلاک
اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی جوڑے اور ان کے دو بچوں کو گولی مار کے قتل کر دیا
یوکرین: روسی بمباری میں چھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں
ایران: تین امریکی ہوائی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے اور نیتن یاہو کو دھمکی
تہران غیر سرکاری سفارتی راستوں کے لیے کھلا ہے: فیدان
ایران اور لبنان میں اسکولوں اور اسپتالوں پر حملے غزّہ پر حملوں سے مشابہہ ہیں: اردوعان
ترکیہ  نے اپنا نیا ڈرون طیارہ K2 متعارف کروا دیا