برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے، فلسطین کو بھی 'امن بورڈ'میں شامل کرنے اور اس بورڈ کی توجہ کو غزہ تک محدود رکھنے، کامطالبہ کیا ہے۔
برازیل صدارتی دفتر کے مطابق دونوں صدور نے بروز سوموار ٹیلی فونک ملاقات کی اور مزید بات چیت کے لئے واشنگٹن میں ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔ پچاس منٹ پر محیط مذاکرات میں لولا نے صدر ٹرمپ سےدرخواست کی ہے کہ "امن بورڈ" کو غزہ تک محدود رکھا جائے اور اس کی رکنیت میں فلسطین کے لیے بھی ایک نشست شامل کی جائے۔
علاوہ ازیں لولا نے عالمی انتظام کے مستقبل سے متعلق زیادہ وسیع پیمانے کے خدشات کا اظہار کیا اور سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی تعداد میں اضافے سمیت اقوام متحدہ میں "جامع اصلاح" کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
اتار چڑھاو کے شکار تعلقات
ماہِ اکتوبر کے پہلے سرکاری مذاکرات کے بعد لولا اور ٹرمپ زیادہ قریبی رابطے کی حالت میں ہیں۔ یہ مذاکرات برازیل اور واشنگٹن کے درمیان مخاصمانہ دور کے بعد باہمی تعلقات میں نرمی کا اشارہ ثابت ہوئے ہیں۔
تعلقات میں بہتری کے حصے کے طور پر ٹرمپ انتظامیہ نے اہم برازیلی برآمدات کو 40 فیصد ٹیرف سے معاف قرار دیا اور ایک سینئر برازیلی جج پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔
ٹیلی فونک ملاقات میں دونوں صدور نے وینزویلا کی صورتحال پر بھی بات کی اور لولا نے "علاقے میں امن اور استحکام" کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ رواں مہینے کے آغاز میں صدر لُولا نے کہا تھا کہ صدر نکولس مادورو کی معزولی کے لئے وینزویلا پر کیا گیا امریکی حملہ ایک "ناقابل قبول حد" پار کر گیا ہے۔
برازیل صدارتی دفتر کے مطابق، لولا کا دورہ واشنگٹن، ان کے فروری میں متوقع بھارت اور جنوبی کوریا کے دوروں کے بعد ہوگا۔ دورے کی تاریخ جلد ہی طے کر دی جائے گی۔












