سیاست
3 منٹ پڑھنے
شام: اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں
کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا اور شامی وفد قومی یکجہتی اور خودمختاری کے دیرینہ اصولوں پر قائم رہا ہے: شام
شام: اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں
Remains of destroyed vehicles after deadly clashes between Druze militias, Bedouin tribes, and government forces in Sweida, Syria on 25 July 2025. / Reuters

شامی اور اسرائیلی حکام کے درمیان پیرس میں جاری ابتدائی مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے ہیں۔

شام کے ریاستی نشریاتی ادارے 'الاخباریہ ' نے شامی سفارتی ذرائع کے حوالے سےکہا ہے کہ مذاکرات کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ یہ ملاقات، جو امریکہ کی ثالثی میں ہوئی، صرف "ابتدائی مشاورت" تھی جس کا مقصد جنوبی شام میں کشیدگی کو کم کرنا اور مہینوں سے جاری کشیدگی کے بعد رابطوں کو بحال کرنا تھا۔

سفارتی ذرائع نے نشریاتی ادارے کو بتایا  ہےکہ "کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا" اور شامی وفد قومی یکجہتی اور خودمختاری کے دیرینہ اصولوں پر قائم رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں شامی وفد نے اس بات پر زور دیا  ہےکہ السویدا اور اس کے عوام"شامی ریاست کاناگزیر حصہ ہیں اور انہیں کسی بھی بہانے سے الگ نہیں کیا جا سکتا یا  پھر نشانہ نہیں بنایا جا سکتا"۔

شامی فریق نے،  خاص طور پر 8 دسمبر کے بعد بعض شامی علاقوں میں مداخلت کی وجہ سے، اسرائیل کو حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایاہے۔

وفد نے خبردار کیا  ہےکہ جارحانہ کارروائیوں کا تسلسل "علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے" اور یہ کہ شام زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔

مذاکرات میں بین الاقوامی ضمانتوں  کی یقین دہانی کی شرط پر  علیحدگی کے معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے کے امکان پر غور کیا گیا  اور حالیہ پیش قدمی کے بعد قبضے میں لئے گئے شامی علاقوں سے اسرائیلی فوج  کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگرچہ کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے لیکن  فریقین نے،  صورتحال کو قابو میں رکھنے اور استحکام کو فروغ دینے کے طریقوں پر غور کی خاطر، مستقبل قریب میں مزید ملاقاتوں پر اتفاق کیا ہے   ۔

ذرائع نے کہا ہے کہ "مذاکرات براہ راست تھے اور ذمہ داری کے  شعور کے ساتھ کئے گئے ہیں لیکن اس مرحلے پر یہ کسی بھی قسم کے معاہدے کی نمائندگی نہیں کرتے"۔

ماہرین نے، اس  ملاقات  کےشام اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران طے پانے کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔

واضح رہے کہ13 جولائی کو السویدا میں بدوی عرب قبائل اور مسلّح درُوز ملیشیا کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔  ایسے میں کہ جب  علاقے میں پہلے ہی تشدد میں اضافہ  ہو رہا تھا اسرائیلی  فوج نے فضائی حملے کر کےدارلحکومت دمش سمیت  شامی فوجی مقامات اور بنیادی شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا ۔

اگرچہ اسرائیل نےان حملوں کے لیے "دروزبرادری  کے تحفظ" کو جواز بنایا تھا لیکن شام میں زیادہ تر دروز رہنماؤں نے کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو عوامی طور پر مسترد کر دیا اور متحدہ شامی ریاست کے ساتھ   وابستگی کا اعادہ کیا تھا۔ جھڑپوں کے بعد بروز ہفتہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

نئی شامی حکومت 8 دسمبر 2024 کو سابقہ بشارالاسد حکومت کی معزولی  کے بعد سے ملک بھر میں نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دریافت کیجیے
اسرائیل کا غزہ پر حملہ، چار فلسطینی ہلاک
ڈیموکریٹ سینیٹر نے اسرائیل کو 2.8 بلین ڈالر کے اسلحے  کی فروخت روک دی
ترک صدر ایردوان نیویارک روانہ،جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
روس اور یوکرین میں کل شب کے حملوں میں متعدد افراد زخمی
جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار کردیا؛ جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب