سیاست
3 منٹ پڑھنے
شام: اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں
کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا اور شامی وفد قومی یکجہتی اور خودمختاری کے دیرینہ اصولوں پر قائم رہا ہے: شام
شام: اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں
Remains of destroyed vehicles after deadly clashes between Druze militias, Bedouin tribes, and government forces in Sweida, Syria on 25 July 2025. / Reuters
27 جولائی 2025

شامی اور اسرائیلی حکام کے درمیان پیرس میں جاری ابتدائی مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے ہیں۔

شام کے ریاستی نشریاتی ادارے 'الاخباریہ ' نے شامی سفارتی ذرائع کے حوالے سےکہا ہے کہ مذاکرات کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ یہ ملاقات، جو امریکہ کی ثالثی میں ہوئی، صرف "ابتدائی مشاورت" تھی جس کا مقصد جنوبی شام میں کشیدگی کو کم کرنا اور مہینوں سے جاری کشیدگی کے بعد رابطوں کو بحال کرنا تھا۔

سفارتی ذرائع نے نشریاتی ادارے کو بتایا  ہےکہ "کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا" اور شامی وفد قومی یکجہتی اور خودمختاری کے دیرینہ اصولوں پر قائم رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں شامی وفد نے اس بات پر زور دیا  ہےکہ السویدا اور اس کے عوام"شامی ریاست کاناگزیر حصہ ہیں اور انہیں کسی بھی بہانے سے الگ نہیں کیا جا سکتا یا  پھر نشانہ نہیں بنایا جا سکتا"۔

شامی فریق نے،  خاص طور پر 8 دسمبر کے بعد بعض شامی علاقوں میں مداخلت کی وجہ سے، اسرائیل کو حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایاہے۔

وفد نے خبردار کیا  ہےکہ جارحانہ کارروائیوں کا تسلسل "علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے" اور یہ کہ شام زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔

مذاکرات میں بین الاقوامی ضمانتوں  کی یقین دہانی کی شرط پر  علیحدگی کے معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے کے امکان پر غور کیا گیا  اور حالیہ پیش قدمی کے بعد قبضے میں لئے گئے شامی علاقوں سے اسرائیلی فوج  کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگرچہ کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے لیکن  فریقین نے،  صورتحال کو قابو میں رکھنے اور استحکام کو فروغ دینے کے طریقوں پر غور کی خاطر، مستقبل قریب میں مزید ملاقاتوں پر اتفاق کیا ہے   ۔

ذرائع نے کہا ہے کہ "مذاکرات براہ راست تھے اور ذمہ داری کے  شعور کے ساتھ کئے گئے ہیں لیکن اس مرحلے پر یہ کسی بھی قسم کے معاہدے کی نمائندگی نہیں کرتے"۔

ماہرین نے، اس  ملاقات  کےشام اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران طے پانے کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔

واضح رہے کہ13 جولائی کو السویدا میں بدوی عرب قبائل اور مسلّح درُوز ملیشیا کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔  ایسے میں کہ جب  علاقے میں پہلے ہی تشدد میں اضافہ  ہو رہا تھا اسرائیلی  فوج نے فضائی حملے کر کےدارلحکومت دمش سمیت  شامی فوجی مقامات اور بنیادی شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا ۔

اگرچہ اسرائیل نےان حملوں کے لیے "دروزبرادری  کے تحفظ" کو جواز بنایا تھا لیکن شام میں زیادہ تر دروز رہنماؤں نے کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو عوامی طور پر مسترد کر دیا اور متحدہ شامی ریاست کے ساتھ   وابستگی کا اعادہ کیا تھا۔ جھڑپوں کے بعد بروز ہفتہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

نئی شامی حکومت 8 دسمبر 2024 کو سابقہ بشارالاسد حکومت کی معزولی  کے بعد سے ملک بھر میں نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دریافت کیجیے
ایران میں فوجی اتارنے کا امکان،امریکہ ویت نام کو نہ بھولے: ایران
نائیجیریا میں خودکش حملوں میں متعدد افراد ہلاک، 100 زخمی
ایران-امریکہ جنگ میں 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں:سینٹرل کمانڈ
مرکزِ بحالی پر پاک فوج کے مبینہ حملے میں 400 افراد ہلاک ہونے کا دعوی
بھارت: ہسپتال میں آگ لگ گئی، دس مریضوں کی موت
ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی پانچویں رکن نے بھی آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست واپس لے لی
امریکہ کا ایران کے خلاف جنگ کا بل 12 ارب ڈالر ہے: وائٹ ہاؤس
آسکر ایوارڈز: مائیکل بی جارڈن بہترین اداکار اور جیسی بکلی  بہترین اداکارہ قرار
یوکرین کے ڈرون حملے، روسی تیل کے ذخائر نشانے پر
افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات میں اضافے کے وقت پاکستان کا قندھار پر حملہ
حلیف ممالک نے ایران کے خلاف جنگ میں مدد نہیں کی تو نیٹو کا مستقبل بہت برا ہو گا:ٹرمپ
لبنان میں بری کاروائی کا امکان،اسرائیل کافوجی نفری کی تعداد بڑھانے پر غور
اسرائیلی سیکیورٹی افسران کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ متوقع رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہی
غزہ پر اسرائیلی فضائی حملہ، ایک بچے اور حاملہ عورت سمیت 4 فلسطینی ہلاک
اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی جوڑے اور ان کے دو بچوں کو گولی مار کے قتل کر دیا