ویتنام میں شدید سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 90 تک پہنچ گئی ہے، اور 12 افراد اب بھی لاپتہ ہیں ۔
اکتوبر کے آخر سے جنوب وسطی ویتنام میں مسلسل بارشیں جاری ہیں اور مشہور سیاحتی مقامات کو کئی بار سیلاب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
گزشتہ ہفتے ساحلی نھا ترانگ شہر کے پورے حصے سیلاب میں آ گئے، جبکہ دا لات سیاحتی مرکز کے ارد گرد مہلک لینڈ سلائیڈز نے پہاڑی راستوں کو متاثر کیا۔
وزارت ماحولیات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 16 نومبر سے اب تک 60 سے زائد اموات ڈاک لاک میں ریکارڈ کی گئیں، جہاں ہزاروں گھر زیر آب آ گئے،
وزارت نے کہا کہ اتوار کو ڈاک لاک کے چار کمیونز اب بھی زیر آب تھے۔
گزشتہ ہفتے میں ڈک لاک اور چار دیگر صوبوں میں 80,000 ہیکٹر سے زائد چاول اور دیگر فصلیں متاثر ہوئیں، جن میں سے 3.2 ملین سے زائد مویشی یا پولٹری سیلاب کی وجہ سے ہلاک ہوئے یا بہہ گئے۔
ریاستی ادارے ٹوئی ٹری نیوز نے بتایا کہ حکام نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈز سے محروم کمیونٹیز کو فضائی طور پر امداد دینے کے لیے ہیلی کاپٹرز کا استعمال کیا ہے، اور حکومت نے متاثرہ علاقوں میں کپڑے، پانی صاف کرنے والی گولیاں، فوری نوڈلز اور دیگر سامان پہنچانے کے لیے عملے کو تعینات کیا ہے
گزشتہ ہفتے جنوبی ساحلی خانہ ہوا صوبے میں شدید سیلاب نے دو معلق پلوں کو بہا دیا، جس سے کئی گھرانے الگ تھلگ ہو گئے، ذرائع نے حکام کے حوالے سے کہا۔
قومی شاہراہوں پر کئی مقامات اتوار کو سیلاب یا لینڈ سلائیڈز کی وجہ سے بند رہے جبکہ کچھ ریلوے سیکشنز اب بھی معطل ہیں۔
ماحولیات کی وزارت نے اتوار کو پانچ صوبوں میں سیلاب کی وجہ سے 343 ملین ڈالر کے معاشی نقصانات کا اندازہ لگایا۔
قومی شماریاتی دفتر کے مطابق،قدرتی آفات نے ویتنام میں 279 افراد کو ہلاک یا لاپتہ کیا ہے اور جنوری سے اکتوبر کے درمیان 2 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا ہے،
جنوب مشرقی ایشیائی ملک جون سے ستمبر کے درمیان شدید بارشوں کا شکار رہتا ہے، لیکن سائنسدانوں نے موسمیاتی بحران کا ایک ایسا نمونہ شناخت کیا ہے جو شدید موسم کو زیادہ بار بار اور تباہ کن بنا دیتا ہے۔






