آسٹریلوی فرم قنطاس پر سائبر حملے میں 6 ملین کسٹمرز کا ڈیٹا چوری
ایئر لائن کا دعویٰ ہے کہ ہیکرز نے اس کے ایک صارف رابطہ مرکز کو نشانہ بنایا، جس میں ایک تیسرے فریق کے استعمال میں آنے والے کمپیوٹر سسٹم میں خرابی پیدا کی۔
آسٹریلوی فرم قنطاس پر سائبر حملے میں 6 ملین کسٹمرز کا ڈیٹا چوری
FILE PHOTO: Australian airline Qantas said it was investigating a cyberattack, after hackers infiltrated a system containing sensitive data. / AFP

آسٹریلوی ایئرلائن قنطاس نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ ایک 'اہم' سائبر حملے کی تحقیقات کر رہی ہے، جس میں ہیکرز نے چھ ملین صارفین کے حساس ڈیٹا پر مشتمل نظام میں دراندازی کی۔

قنطاس نے کہا کہ ہیکرز نے اس کے ایک صارف رابطہ مرکز کو نشانہ بنایا اور ایک  تیسرے فریق کے زیر استعمال کمپیوٹر نظام کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

کمپنی کے مطابق، ہیکرز کو صارفین کے نام، ای میل پتوں، فون نمبروں اور تاریخ پیدائش جیسے حساس معلومات تک رسائی حاصل ہوئی۔

بیان میں کہا گیا، 'اس پلیٹ فارم میں چھ ملین صارفین کے سروس ریکارڈز موجود ہیں۔'

’ہم چوری شدہ ڈیٹا کے تناسب کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ہمیں توقع ہے کہ یہ کافی حد تک اہم ہوگا۔‘

قنطاس نے مزید کہا کہ کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات اور پاسپورٹ نمبر اس نظام میں محفوظ نہیں تھے۔’قنطاس کی کارروائیوں یا ایئرلائن  کے تحفظ  پر کوئی اثر نہیں پڑا۔‘

چیف ایگزیکٹو وینیسا ہڈسن نے کہا کہ قنطاس نے آسٹریلیا کے نیشنل سائبر سیکیورٹی کوآرڈینیٹر کو مطلع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’ہم اپنے صارفین سے مخلصانہ معذرت خواہ ہیں اور ہمیں اس غیر یقینی صورتحال کا احساس ہے جو اس سے پیدا ہوگی۔‘

’ہمارے صارفین ہم پر اپنی ذاتی معلومات کے تحفظ کا اعتماد کرتے ہیں، اور ہم اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔‘

ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے سائبر سیکیورٹی ماہر کرسٹوفر برونک نے کہا کہ چوری شدہ ڈیٹا شناخت کی چوری کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

برونک نے کہا، ’چوری شدہ صارف ڈیٹا کی قیمت اس کی مجرمانہ عناصر کے درمیان دوبارہ فروخت کی صلاحیت میں ہے، جو کمپیوٹر کے ذریعے دھوکہ دہی اور متاثرین کے دیگر آن لائن اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

حالیہ برسوں میں بڑے سائبر حملوں کی ایک لہر نے آسٹریلوی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر رمپا داسگپتا نے کہا، ’آسٹریلیا میں یہ بار بار ہونے والے سائبر حملے ظاہر کرتے ہیں کہ بہت سی تنظیمیں اب بھی سائبر سیکیورٹی کو نظر انداز کر رہی ہیں۔‘

داسگپتا، جو آسٹریلیا کی لا ٹروب یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، نے کہا، ’اسے سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔‘

قنطاس نے 2024 میں معذرت کی تھی جب اس کی موبائل ایپ میں ایک خرابی نے کچھ مسافروں کے نام اور سفری تفصیلات ظاہر کر دی تھیں۔

2023 میں آسٹریلیا کی 40 فیصد مال برداری  کی خدمات ادا کرنے والی  بندرگاہوں کی کارروائیاں اس وقت رک گئیں جب ہیکرز نے ڈی پی ورلڈ کے کمپیوٹرز میں دراندازی کی۔

2022 میں روسی ہیکرز نے آسٹریلیا کے سب سے بڑے نجی صحت بیمہ کنندگان میں سے ایک کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی، جس میں نو ملین سے زائد موجودہ اور سابق صارفین کا ڈیٹا شامل تھا۔

اسی سال ٹیلی کام کمپنی آپٹس کو بھی ایک بڑے ڈیٹا لیک کا سامنا کرنا پڑا، جس میں 9.8 ملین افراد کی ذاتی تفصیلات تک رسائی حاصل کی گئی۔

دریافت کیجیے
ایردوان، ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات میں CAATSA معافی اور S-400 کے حل کو آگے بڑھائیں گے، فیدان
چینی صوبے گوانگ دونگ میں ایک ٹیکسٹائل ورکشاپ میں آگ لگنے سے 8 محنت کش ہلاک
سابق وزیر اعظم عمران خان کی تین بہنوں کو گرفتار کر لیا گیا
روس: دورانِ جنگ انتخابات، حزبِ اقتدار پارٹی کی واضح برتری
امریکہ: چین کے ساتھ مذاکرات "بہت کامیاب" رہے ہیں
امریکہ نے یوکرین کے لیے  $2.68 بلین کے دفاعی پیکیج کی منظوری دے دی
چلی: سابق صدر نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی دوڑ سےنام واپس لے لیا
ایران نےمذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا شرط نامہ پیش کردیا
امریکہ کا منشیات کی ترسیل کرنے والے جہاز پر حملہ، 4 افراد ہلاک
اسرائیل کا غزہ پر حملہ، چار فلسطینی ہلاک
ڈیموکریٹ سینیٹر نے اسرائیل کو 2.8 بلین ڈالر کے اسلحے  کی فروخت روک دی
ترک صدر ایردوان نیویارک روانہ،جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر