امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ منگل کے روز سینکڑوں امریکی فوجی افسران سے ذاتی طور پر خطاب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ اجلاس پینٹاگون کے اچانک دنیا بھر کے اعلیٰ کمانڈروں کو ورجینیا کی فوجی بیس پر طلب کرنے اور اس ہنگامی طلبی کی وجہ کا عوامی سطح پر اعلان نہ کرنے کے بعد کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن کے قریب 'کوانٹیکو' نیول بیس پر متوقع اور مشرق وسطی جیسے جھڑپوں کی لپیٹ میں آئے ہوئے جغرافیے میں متعین فوجی افسران کو ایک جگہ پر جمع کرنے والے اس اجلاس نے اپنے مقصد اور اہمیت کے بارے میں شدید قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے ۔
اگرچہ سویلین رہنماؤں اور اعلیٰ فوجی افسران کے درمیان ملاقاتیں کوئی نئی بات نہیں ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا پیمانہ، عاجلیت اور راز داری خاص طور پر توجہ کا مرکز بن رہی ہے۔
سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے سینئر مشیر اور ریٹائرڈ میرین کرنل مارک کینسیئن کا کہنا ہے کہ " وزیر دفاع کا جرنیلوں کے ساتھ ملاقات کرنا، ان کے نقطہ نظر، حکمت علمی اور آراء کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا نہایت معقول بات ہے۔ لیکن جو چیز حیران کن ہے وہ یہ کہ یہ اتنے مختصر نوٹس پر کیوں ہو رہا ہے، ذاتی طور پر کیوں ہو رہا ہے اور اس میں اور کیا کچھ شامل ہو سکتا ہے۔"
اتوار کو ایک وائٹ ہاؤس اہلکار نے کہا کہ ٹرمپ بھی اس اجلاس میں خطاب کریں گے۔ صدر نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ وہ اور ہیگسیٹھ "فوجی طور پر ہماری کامیابیوں، ہماری بہترین حالت، اور کئی مثبت چیزوں کے بارے میں بات کریں گے۔"
اتوار کو ایک وائٹ ہاؤس اہلکار نے کہا ہےکہ ٹرمپ بھی اس اجلاس میں خطاب کریں گے۔ صدر نے این بی سی نیوز کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ میں اور ہیگسیٹھ "فوجی حوالے سےاپنی کامیابیوں، بہترین فوجی حالت اور کئی مثبت چیزوں کے بارے میں بات کریں گے۔"
نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ہفتے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ میڈیا نے اسے بہت بڑا مسئلہ بنا دیا ہے ۔یہ کوئی ایسی غیر معمولی بات نہیں ہے کہ جو جرنیل ، ہیگسیٹھ کو، رپورٹ کرتے ہیں وہ ان سے بات کرنے آ رہے ہیں۔"










