مشرق وسطی
2 منٹ پڑھنے
سعودی عرب: ہم پُر امید ہیں
ہم ابھی بھی، یمن کے جنوب پر قابض مرکزی علیحدگی پسند گروپ کے کشیدگی ختم کرنے کے بارے میں، پُر امید ہیں: سعودی عرب وزارت خارجہ
سعودی عرب: ہم پُر امید ہیں
ایس ٹی سی کی افواج ایک پہاڑی علاقے میں پہنچیں جہاں وہ یمن کے ابین میں ایک فوجی آپریشن شروع کر رہی ہیں، 15 دسمبر 2025۔ / Reuters
25 دسمبر 2025

سعودی عرب نے کہا ہے کہ "ہم ابھی بھی، یمن کے جنوب پر قابض مرکزی علیحدگی پسند گروپ کے کشیدگی ختم کرنے کے بارے میں، پُر امید ہیں۔

سعودی عرب وزارت خارجہ نے آج بروز جمعرات جاری کردہ  بیان میں کہا ہے کہ "سعودی  حکومت  نے یمن کی جنوبی عبوری کونسل 'ایس ٹی سی'کی فوجی کارروائیوں کو ،جن کے ذریعے گروپ نے اس مہینے کے اوائل میں مشرقی صوبے حضرموت اور مہرا پر قبضہ کر لیا تھا ،  ایک 'بلا جواز کشیدگی' قرار دیا ہے"۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "سعودی حکومت  ، یمن میں عوامی مفاد کے غالب آنے  اور جنوبی عبوری کونسل کی طرف سے کشیدگی کے خاتمے  اور دونوں صوبوں سے ایس ٹی سی فوجوں کی فوری اور منظم  واپسی کے موضوعات پر ابھی بھی پُر امید ہے"۔

واضح رہے کہ سعودی   عرب کی زیرِ قیادت اتحاد نے 2015 میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف یمن میں فوجی کاروائی شروع کی تھی اور ایس ٹی سی کے دستے ابتدا میں اس اتحاد کا حصہ تھے ۔

تاہم بعد ازاں  'ایس ٹی سی'،  حکومت کے، خلاف ہو گئی اور سعودی حمایت یافتہ انتظامی مرکز  کے وقوع والے اہم بندر گاہی شہر عدن سمیت ملک کے جنوب میں خودمختار انتظامیہ کا مطالبہ کر دیا تھا۔

ضروری انتظامات

کشیدگی کو ٹھنڈا کرنے کی تدابیر پر بات چیت کے لئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ایک مشترکہ  فوجی وفد نے 12 دسمبر کو عدن کا دورہ کیا تھا۔

سعودی عرب نے کہا  ہےکہ مذکورہ  ٹیمیں ، ایس ٹی سی کے دستوں  کی  دونوں صوبوں کے باہر اپنی سابقہ پوزیشنوں پر واپسی کے لئے،'ضروری انتظامات' کرنے کے لیے بھیجی گئی  تھیں۔

مزید کہا گیا ہے  کہ  صورتحال کو اس کی سابقہ حالت میں لانے کے لئے  کوششیں جاری ہیں۔

واضح رہے کہ یمن 2014 سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔ خانہ جنگی کے دوران حوثیوں نے  دارلحکومت صنعاء سمیت ملک کے شمالی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ قبضے  کے نتیجے میں حکومت جنوب کی طرف ہجرت کر گئی اور بندرگاہی شہر عدن کو اپنا مرکز بنا لیا تھا۔