دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
یہ جرمانے درخواست گزاروں کو اچانک مالی تباہی سے دوچار کر سکتے ہیں لہٰذا ان اقدامات کو روکنا انتہائی ضروری ہے: جارج او ٹول
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
امریکی جج نے ملک بدری کا سامنا کرنے والے تارکینِ وطن پر لاکھوں ڈالر کے جرمانے روک دیے۔ (تصویر: فائل) / Reuters

امریکہ میں ایک وفاقی جج نے تارکینِ وطن پر عائد بھاری جرمانوں کا نفاذ روک دیا ہے۔

اطلاع کے مطابق  بوسٹن کے ضلعی جج 'جارج او ٹول' نے ملک بدری کے حتمی احکامات کے باوجود امریکہ ترک نہ کرنے والے تارکینِ وطن پر 18 لاکھ ڈالر تک کے انتظامی جرمانے کے نفاذ کی کوششیں روک دی ہیں۔ جج نے اس جرمانے کو غیر قانونی طریقے سے عائد کیے گئے جرمانے قرار دیا ہے۔

او ٹول نے یہ فیصلہ گزشتہ سال امیگرنٹ لیگل ریسورس سینٹر (ILRC) کی جانب سے دائر کی گئی ایک اجتماعی درخواست پر سنایا ہے۔ مقدمے میں ان ہزاروں افراد میں سے دو تارکینِ وطن بھی شامل تھے جن پر محکمہ داخلی سلامتی نے جرمانے عائد کیے تھے۔

او ٹول نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ جرمانے درخواست گزاروں کو اچانک مالی تباہی سے دوچار کر سکتے ہیں لہٰذا ان اقدامات کو روکنا انتہائی ضروری ہے۔

او ٹول نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’’درخواست گزار پہلے ہی معاشی طور پر غیر مستحکم حالات میں زندگی گزار رہے ہیں"۔

امریکہ وزارتِ داخلہ سلامتی نے جولائی میں جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ سال ،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے کے بعد سے، 103,000 سے زائد جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں۔ ان جرمانوں  کی مجموعی مالیت تقریباً 84 ارب ڈالر ہے۔

واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے 1996 کے قانون برائے غیر قانونی نقل مکانی  اصلاحات اور تارکینِ وطن کی ذمہ داری کے تحت انتظامی جرمانے عائد کرنے کی اجازت دی تھی تاہم اس سے قبل کسی بھی حکومت نے ان جرمانوں کو عملی طور پر نافذ نہیں کیا تھا۔

قانونی خلاف ورزیاں

انتظامیہ نے دوبارہ نافذ کی گئی اس پالیسی کے تحت ان تارکینِ وطن پر جو ملک بدری کے حکم کے باوجود امریکا سے نہیں نکلے یومیہ  998 ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے۔

حکام کی طرف سے یہ  جرمانے زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی سابقہ مدت کے لیے بھی عائد کیے جانے کے بعد  بعض افراد پر مجموعی جرمانہ 18 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

وزارتِ  داخلہ سلامتی اوروزارتِ انصاف نے جولائی 2025 میں 30 روزہ پیشگی اطلاع کی مدت ختم کر دی اور اعتراض دائر کرنے کے طریقۂ کار کو محدود کر کے اس عمل کو تیز کر دیا ہے۔

محکمہ نقل مکانی و کسٹم  (ICE) نے یہ جانچ کیے بغیر کہ ملک سے نہ نکلنے کا عمل کسی فرد کی ارادی یا غیر ارادی کوشش تھا، معیاری تیار شدہ فارم استعمال کرتے ہوئے معمول کے مطابق جرمانے عائد کر دیئے تھے۔

جج او ٹول نے کہا ہے  کہ سرکاری نوٹسوں میں یہ بتانے کے لیے مخصوص وجوہ موجود نہیں تھیں کہ کسی فرد کا طرزِ عمل مالی جرمانے کا سبب کیوں ہے، اس لیے یہ جرمانے انتظامی طریقۂ کار کے قانون (Administrative Procedure Act) کی خلاف ورزی ہیں۔

جج نے مزید کہا ہے کہ انتظامیہ نے پالیسی میں تبدیلیاں نافذ ہونے سے قبل عوام کو ان کا جائزہ لینے اور اپنی رائے پیش کرنے کا موقع فراہم نہ کرکے وفاقی قواعد وضع کرنے کے تقاضوں کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

دریافت کیجیے
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک
غیر ملکی شہری اور سفارت کار کیف چھوڑ دیں:روس
ٹرمپ:ایران جوہری ہتھیار کے منصوبے سے تقریباً دستبردار ہو چکا ہے
یمنی فوج کے حوثیوں کے اہم مراکز پر حملے
اسرائیل کے غزہ میں ایک فلیٹ پر حملے میں پانچ افراد لقمہ اجل
پاکستان: 6 سے زیادہ ممالک مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں
ہزاروں کی تعداد میں 'کاکروچ' کارکنان نے مودی کے الیکشن چیف کے استعفی کا مطالبہ کیا
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کو ہٹانے پر مثبت موقف کا مظاہرہ
بھارت نے پنجاب کی سرحدوں کے قریب دو پاکستانی شہریوں کو  مار ڈالا