نیویارک میں جاری اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران ایسے میں کہ جب کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں یورپی یونین کے دو اعلیٰ رہنماؤں نے آج بروز بدھ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔
پاکستان کے وزارتِ اعظمیٰ دفتر کے جاری کردہ بیان کے مطابق، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔
یورپی یونین کے دونوں رہنماؤں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکسپر الگ الگ مگر یکساں نوعیت کے بیانات میں کہا ہے کہ"ہم استحکام اور سلامتی کے امور پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہم نے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے میں ثالثانہ کوشش پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا ہے۔"
وزارتِ اعظمیٰ دفتر کے بیان کے مطابق، شہباز شریف، انتونیو کوسٹا اور ارسولا وان ڈیر لیین نے علاقائی اور عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے مکالمے، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور پُرامن ذرائع کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
یورپی یونین کے دونوں رہنماؤں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ"پاکستان کشیدگی میں کمی، مکالمے اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔"
رواں سال فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد سے اسلام آباد نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان وزارتِ اعظمیٰ دفتر کے مطابق، ملاقات میں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کا "تمام پہلوؤں" سے جائزہ لیا اور شہباز شریف نے یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی "وسیع البنیاد شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک تعاون منصوبے پر مکمل عمل درآمد" کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
انتونیو کوسٹا اور ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا ہے کہ"یورپی یونین، پاکستان کے ساتھ اپنی شراکت داری کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ ہمارا اسٹریٹجک تعاون منصوبہ اس شراکت داری کے دائرہ کار اور جمہوریت، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔"


























