ایوان صدر کے اعلامیہ کے مطابق، پزشکیان اور میرزویان نے دارالحکومت تہران میں ملاقات کی۔
پزشکیان نے ملاقات کے دوران کہا، ' امریکہ کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ جب بھی ہم میز پر بیٹھتے ہیں، ہمارے سر پر جنگ تھوپ دی جاتی ہے۔' اُنہوں نے کہا کہ واشنگٹن انتظامیہ نے مذاکرات کے دوران تین مرتبہ ان کے ملک پر حملہ کیا، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 'امریکہ گفتگو نہیں بلکہ ایران کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔'
پزشکیان نے کہا کہ ان کے ملک نے ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں اپنی دیانتداری کئی بار ثابت کی ہے، ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی طرف سے سب سے زیادہ معائنہ کیے جانے والا ملک ہے، اس کے باوجود امریکہ 'بے بنیاد دعوؤں' کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے فورم سے ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں نگرانی اور بات چیت کے لیے کھلے ہونے کا اظہار کر چکے ہیں، مگر ہر معائنہ کے دوران ایران کے ایٹمی مراکز اور سائنسدانوں کی نشاندہی کر کے انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا۔
پزشکیان نے کہا کہ امریکہ نے میناب میں اسکول پر ہونے والے حملے اور اس میں جان بحق ہونے والے 168 بچوں کا احتساب نہیں دیا اور اس کے باوجود انسانی حقوق کی بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، 'ہمیشہ خفیہ طریقے سے قتل، پابندیاں عائد کرنے، دباؤ ڈالنے اور معاہدے توڑنے والے دشمن (امریکہ) کے ساتھ مذاکرات کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ نہ ہی ہمارے عوام اسے قبول کرتے ہیں۔'





















