ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تہران میں ایندھن کے ڈپوؤں پر اسرائیل کی گولہ باری "بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور ماحولیاتی نسل کشی" ہے۔
عباس عراقچی نے پیر کو ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ "رہائشیوں کو ان کی صحت اور فلاح و بہبود کو طویل المدت نقصان کا سامنا ہے۔ مٹی اور زیرِ زمین پانی کا آلودہ ہونا نسلوں تک اثرات مرتب کر سکتا ہے۔"
انہوں نے اسرائیل کو " جنگی جرائم" کی پاداش میں سزا دیے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔
28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر مشترکہ حملوں کے آغاز سے اب تک تقریباً 1,300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں، دشمنیاں شدت اختیار کر گئی ہیں۔
ایران نے اسرائیل، اردن، عراق اورامریکی فوجی اثاثوں کی میزبانی کر نے والے خلیجی ممالک کو ہدف بنا کر ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے جوابی کارروائیاں کی ہیں۔









