دنیا
2 منٹ پڑھنے
امید ہے ہم کامیاب ہو جائیں گے: کالاس
مجھے توقع ہے کہ پُر تشدد کاروائیوں میں ملّوث آبادکاروں پر پابندیوں کے حوالے سے ایک سیاسی معاہدہ طے پا جائے گا: کایا کالاس
امید ہے ہم کامیاب ہو جائیں گے: کالاس
یورپی یونین کی جانب سے اسرائیلی آباد کاروں پر طویل عرصے سے تعطل کا شکار پابندیوں کی منظوری متوقع ہے: کالاس / Reuters

یورپی یونین  خارجہ امور و سلامتی پالیسی کی نمائندہ اعلیٰ کایا کلاس نے کہا ہے کہ ہنگری میں حکومت کی تبدیلی کے بعد مہینوں سے جاری تعطل ختم ہو گیا اور توقع ہے کہ پیر کے روز فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں پر نئی پابندیوں کے حوالے سے اتفاقِ رائے طے پا جائے گا۔

کایا کالاس نے یورپی بلاک کے وزرائے خارجہ اجلاس سے قبل جاری کردہ بیان میں  کہا ہے کہ "مجھے توقع ہے کہ پُر تشدد کاروائیوں میں ملّوث  آبادکاروں پر پابندیوں کے حوالے سے ایک سیاسی معاہدہ طے پا جائے گا۔ امید ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہوں گے"۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں توسیع کے ردِعمل میں اٹھایا جانے والا یہ قدم ہنگری کے سابق وزیرِ اعظم وکٹر اوربان نے روک رکھا تھا۔

اقتدار  کی پیٹر ماگیارکو  منتقلی کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہنگری کی طرف سے کھڑی کی گئی  ویٹو رکاوٹ  بھی ختم ہو جائے گی۔

یورپی یونین حکام کے مطابق سات آبادکاروں یا آبادکار تنظیموں پر پابندی  کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ علاوہ  ازیں یونین ،فلسطین تحریک مزاحمت'حماس'  کے نمائندوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی غزّہ میں شروع کی گئی نسل کُشی  کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً روزانہ تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ان پُر تشدد کاروائیوں میں اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آبادکاردونوں کی شمولیت دیکھی گئی ہے۔

فلسطینی حکام اور اقوام متحدہ کے مطابق، 28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے مہلک حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

اگرچہ یورپی یونین اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں جاری رکھے ہوئے ہے لیکن بلاک کے رکن ممالک کے درمیان اسرائیل کے خلاف تجارتی تعلقات محدود کرنے جیسے مزید سخت اقدامات پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

دریافت کیجیے
بولیویا کی فوجی چھاونی میں دھماکے  میں 10 سے زیادہ افراد ہلاک
ووکس ویگن نے دنیا بھر میں مزید 50,000 ملازمتیں ختم کر دیں
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں
مصر: سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
نیپال۔چین سیلاب کی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد 1,130 تک پہنچ گئی، تقریباً 4,500 افراد لاپتہ
شام: شیبانی۔راسموسین ملاقات
یمن: داعش کے ایک سرغنہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے
امریکہ: اٹارنی نے 17 سالہ لڑکی کو قتل کا قصوروار قرار دے دیا
روس کے کیف اور آس پاس کے علاقوں پر بڑے پیمانے پر میزائل حملے میں چار افراد ہلاک
نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی
یونان-اسرائیل کے درمیان 3٫6 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ
گرینڈ کینن میں اچانک شدت کے سیلاب کے بعد کم از کم 20 افراد لاپتہ