دنیا
3 منٹ پڑھنے
وینیزویلا میں امریکہ کی فوجی کاروائی قابل مذمت ہے :میکسیکو
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے وینزویلا میں امریکی فوجی مداخلت اور صدر نکولس مادورو کے اغوا کی مذمت کی ہے، لاطینی امریکہ میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کو مسترد کیا ہے اور میکسیکو کی سرزمین پر اسی طرح کے حملے کے امکان کو مسترد کیا ہے
وینیزویلا میں امریکہ کی فوجی کاروائی قابل مذمت ہے :میکسیکو
میکسیکو / Reuters

میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے وینزویلا میں امریکی فوجی مداخلت اور صدر نکولس مادورو کے اغوا کی مذمت کی ہے، لاطینی امریکہ میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کو مسترد کیا ہے اور میکسیکو کی سرزمین پر اسی طرح کے حملے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔

شین بام نے کہا کہ میکسیکو تمام اقسام کی غیر ملکی مداخلت کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور ان کے مطابق یہ موقف نہ صرف میکسیکن آئین بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر پر بھی مبنی ہے۔

انہوں نے کہا  کہ ہم دیگر ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ لاطینی امریکہ کی تاریخ واضح اور متاثر کن ہے: مداخلت نے کبھی جمہوریت  کو پروان نہیں چڑھایا، کبھی فلاح و بہبود پیدا نہیں کی، اور نہ ہی دیرپا استحکام ۔

مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو اس وقت اغوا کر لیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کو وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں متعدد مقامات پر فضائی حملوں کا حکم دیا جس کے نتیجے میں وینزویلا کے حکام کے مطابق کم از کم 80 افراد کی تصدیق شدہ ہلاکتیں ہوئیں۔

میکسیکو کے وزیر خارجہ خوان رامون ڈی لا فوینٹے نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات پر تنقید کی اور اقوام متحدہ کے غیر فعال کردار کی مذمت کی، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ اقوام متحدہ نے ایک خودمختار ملک کے خلاف یکطرفہ اور پرتشدد کارروائیوں کے سامنے فیصلہ کن کارروائی نہیں کی۔

 ڈی لا فوینٹے نے کہا کہ اقوام متحدہ ہمارا بنیادی کثیرالجہتی ڈھانچہ ہے۔ یہ ہمارے پاس سب سے بہترین ہے لیکن بدقسمتی سے آج یہ طاقتور طاقتوں کی زیادتیوں کو روکنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ روزانہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی مذمت کے لیے آواز بلند نہیں کی جا سکتی وینزویلا میں امریکی مداخلت کے فورا بعد ٹرمپ نے دیگر لاطینی امریکی ممالک کو امریکی کارروائی کے ممکنہ ہدف قرار دیا، جن میں میکسیکو اور کولومبیا شامل ہیں جنہیں انہوں نے بین الاقوامی منشیات کی اسمگلنگ کے مراکز قرار دیا۔

میکسیکو کے حوالے سے، ٹرمپ نے کہا کہ شین بام منشیات کے کارٹلز سے "خوفزدہ" ہیں، جنہیں وہ ملک کی اصل حکومتی قوت قرار دیتے ہیں، اور انہوں نے فوجی مداخلت کے امکان کی طرف اشارہ کیا۔

اپنی پریس کانفرنس کے دوران، شین بام نے وینزویلا میں مداخلت سے ملتے جلتے کسی بھی منظرنامے کو مسترد کر دیا۔

 انہوں نے کہا کہ میں حملے پر یقین نہیں رکھتی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے بار بار امریکی فوج کو میکسیکو میں داخلے کی اجازت دینے کی تجویز دی ہے، جسے ان کی انتظامیہ نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

کئی مواقع پر ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ امریکی فوج کو میکسیکو میں داخل ہونے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ہم نے بہت سختی سے انکار کر دیا ہے۔ پہلا،  ہم اپنی خودمختاری کا دفاع کرتے ہیں اور دوسرا، کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے۔"

دریافت کیجیے
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"