دنیا
2 منٹ پڑھنے
یوکرین زیلینسکی کی قیادت میں کوئی بھی علاقہ نہیں چھوڑے گا: یرمک
جب تک زیلنسکی صدر ہیں، کوئی بھی اس بات کا حساب کتاب  نہ کرے کہ ہم زمین چھوڑ دیں گے۔  انہوں نےکیف کے اس دیرینہ موقف کی تصدیق کی کہ وہ روسی افواج کے زیرِ قبضہ علاقوں سے دستبردار نہیں ہو گا
یوکرین زیلینسکی کی قیادت میں کوئی بھی علاقہ نہیں چھوڑے گا: یرمک
یرماک نے کہا کہ کسی کو یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ زیلنسکی روسی افواج کے زیرِ قبضہ زمین چھوڑ دیں گے۔ [فائل فوٹو] / Reuters
28 نومبر 2025

یوکرینی چیف آف اسٹاف اندری یرمک نے جمعرات کو  دی اٹلانٹک سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ  صدر وولودیمیر زیلنسکی روس کے ساتھ امن کے بدلے کسی علاقے کی حوالگی پر رضا مند نہیں ہوں گے۔

یِرمک نے  کہا، "جب تک زیلنسکی صدر ہیں، کوئی بھی اس بات کا حساب کتاب  نہ کرے کہ ہم زمین چھوڑ دیں گے۔  انہوں نےکیف کے اس دیرینہ موقف کی تصدیق کی کہ وہ روسی افواج کے زیرِ قبضہ علاقوں سے دستبردار نہیں ہو گا۔”

یرمک کے بیان سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا تھا کہ ماسکو  کے حملے اسی صورت ختم  ہوں  گے جب یوکرینی فوجیں ان علاقوں سے دستبردار ہو جائیں گی جنہیں کریملن اپنا حصہ قرار دیتا ہے  اور خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو روسی قوتیں انہیں زبردستی قبضے میں لے لیں گی۔

کھرغزستان کے دورے کے دوران پوتن نے کہا: "اگر یوکرینی افواج ان علاقوں کو چھوڑ دیں  جن پر ہم قابض ہیں، تو ہم جنگی کارروائیاں روک دیں گے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں، تو ہم اسے عسکری طریقے سے حاصل کر لیں گے۔"

روس اس وقت تقریباً یوکرین کے  ایک بٹا پانچ  حصے پر قابض ہے، اور زیرِ قبضہ زمین کی حیثیت امن عمل کی مرکزی رکاوٹوں میں سے ایک بنی ہوئی ہے۔

روسی فوج نے مشرقی یوکرین میں  جہاں یوکرینی افواج تعداد اور جنگی آلات کے لحاظ سے کمزور ہیں سست مگر مسلسل پیش قدمی جاری رکھی ہے ۔

امریکی امن منصوبہ

دریں اثنا، واشنگٹن نے جنگ ختم کرنے کی کوششیں دوبارہ تیز کر دی ہیں اور ایک غیر متوقع امن منصوبہ پیش کیا ہے ، جس کے بارے میں امریکی حکام کا خیال ہے کہ  اس کی بدولت  مستقبل میں ماسکو اور کیف دونوں کے ساتھ بات چیت میں بہتر ی لائی جائیگی۔

رپورٹس کے مطابق منصوبے کا ایک ابتدائی مسودہ — جو یورپی اتحادیوں کی رائے کے بغیر تیار کیا گیا تھا — اس تصور کا حامل تھا کہ یوکرین مشرقی دونتسک صوبے سے پیچھے ہٹ جائے اور امریکہ عملی طور پر دونتسک، کریمیا اور لوہانسک کو روسی علاقہ تسلیم کر لے۔

کیف نے ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا ہے  جو روس کے زیر ِ قبضہ  علاقوں کو جائز حیثیت دے۔

یوکرینی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی مذاکراتی سمجھوتے میں مغرب کی جانب سے ایسی مضبوط سلامتی ضمانتیں شامل ہونی چاہئیں جو مستقبل میں روسی حملوں کو روک سکیں۔

 

دریافت کیجیے
ترکیہ کو غزہ کی استحکام فورس میں شامل ہونا چاہیے: امریکی سفیر
ٹرمپ جھوٹی معلومات پر انحصار کر رہے ہیں: گسٹاوپیٹرو
میانمار: ہسپتال پر فضائی حملہ، 30 افراد ہلاک
امریکہ: 900 بلین ڈالر کا دفاعی بل منظور ہو گیا
عالمی برادری فلسطینیوں کی حالت زار پر آواز بلند کرے:سانچیز
یورو ویژن 2026 میں اسرائیل کی شرکت،آئس لینڈ  حصہ نہیں لےگا
دیکھتے ہیں یوکرین کا سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے:کریملن
اسرائیل کی طرف سےغزہ میں کی گئی نسل کشی  نے عالمی انسانی حقوق کی اقدار کو شدید متاثر کیا ہے: اردوعان
امیزون نے بھارت میں 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کردیا
امریکی جنگی طیاروں کی وینیزویلا کے قریب پرواز،کشیدگی میں اضافہ
200 کے قریب اسرائیلی آباد کار مسجد الاقصی میں داخل ہو گئے
برازیل: بولسونارو کی سزا میں کمی کا بل منظور
ترکیہ: غزہ  کے حالات ایک دلدوزیاد دہانی اور ایک سنجیدہ تنبیہ کی حیثیت رکھتے ہیں
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جھڑپیں دوبارہ شروع ہو گئیں
شام: سعودی عرب کے ساتھ متعدد معاہدے