امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمیں قطر پر حملے کی اطلاع نہیں دی گئی۔
ٹرمپ نےبروز سوموار جاری کردہ بیان میں، نسل کشی نیتن یاہوکے گذشتہ ہفتے قطر پر حملے سے قبل ذاتی طور پر ٹرمپ کو آگاہ کرنے سے متعلقہ، خبروں کی تردید کی اور کہا ہے کہ"نہیں ، انہوں نے ایسا نہیں کیا۔"
اس سوال کے جواب میں کہ انہیں حملوں کا کیسے علم ہوا ؟ ٹرمپ نے کہا ہے کہ '"جیسے آپ کو پتہ چلا ویسے ہی مجھے بھی پتہ چلا ہے"۔
یہ بیان ایکسیوس کی اس خبر کے جواب میں جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ نیتن یاہو نے حملے سے بالکل پہلے ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوج نے جب انتظامیہ کو آگاہ کیا تو میزائل فائر ہو چکے تھے اور حملہ ہونے کو تھا۔ یہ ایسا وقت تھا کہ ٹرمپ کو اعتراض کرنے کا موقع نہیں ملا۔
اوول آفس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہے کہ "۔
یہ واضح نہیں ہے کہ صدر کا کچھ اور سے کیا مطلب تھا ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان تبصروں سے نیتن یاہو کے لئے خلیجی عرب ملک میں حماس کی شخصیات کے خلاف دیگر اقدامات کرنے کا دروازہ کھل گیا ہے۔ علاقائی رد عمل کے طور پر دوحہ میں منعقدہ ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ پر ایک نئی حقیقت مسلط کرنے کی اسرائیلی کوششوں کے خلاف اجتماعی کارروائی کا مطالبہ کیا اور متنبہ کیا ہے کہ قطر پر اسرائیلی حملوں کے نتائج خطے کے لیے خطرناک ہوں گے۔
قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کیو این اے کی جانب سے جاری کردہ حتمی بیان میں دوحہ پر حملے کی مذمت کی گئی اور قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔ سربراہی اجلاس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جارحیت "خطے میں قیامِ امن کے امکانات کو کمزور کر رہی ہے۔" بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ "خطے پر ایک نئی حقیقت مسلط کرنے کے اسرائیلی منصوبوں کی مخالفت کی جانی چاہئے" اور متنبہ کیا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات "علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لئے براہ راست خطرہ ہیں"۔
واضح رہے کہ مصر اور امریکہ کی طرح قطر بھی محصور غزہ میں جنگ بندی کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔







