سیاست
2 منٹ پڑھنے
عرب رہنماؤں کی اسرائیل اور ایران کے درمیان میزائل حملوں کے بعد تشدد کو کم کرنے کی اپیل
سعودی عرب، قطر، مصر، اردن، کویت، عراق اور فلسطین نے جمعہ کے روز خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔
عرب رہنماؤں کی اسرائیل اور ایران کے درمیان میزائل حملوں کے بعد تشدد کو کم کرنے کی اپیل
File/Arab governments call for calm after Israeli airstrikes on Iran. Saudi Arabia, Qatar, Egypt, Jordan and others warn of escalating the conflict. / AP

ایرانی جوہری تنصیبات، فوجی مراکز اور حکام کے گھروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عرب ممالک نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

سعودی عرب، قطر، مصر، اردن، کویت، عراق اور فلسطین نے جمعہ کے روز خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔ ان حملوں کے جواب میں تہران کے جوابی حملوں میں ایک اسرائیلی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی۔

سعودی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب سے بھی گفتگو کی اور اسرائیلی حملوں کو خطے میں سفارتی کوششوں کے لیے ایک دھچکا قرار دیا۔

قطر کے وزیر خارجہ نے گہری تشویش کا اظہار کیا اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

متحدہ عرب امارات، عمان، مصر، اردن، کویت اور عراق نے بھی اسی طرح کے بیانات جاری کیے اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ قومی خودمختاری کا احترام کریں اور سفارتی حل تلاش کریں۔

اردن کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ ان کا ملک فضائی حدود کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔

عراق نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں باضابطہ شکایت درج کرائی اور اسرائیل کی جانب سے عراقی فضائی حدود کے استعمال پر جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

فلسطینی حکام نے بھی خطے میں تعاون پر زور دیا تاکہ صورتحال کو وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔

اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران پر حملے شروع کیے، جن میں ایران کی جوہری، فوجی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور اس کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور سائنسدانوں کو ہلاک کیا گیا۔

یہ حملے جمعہ کی رات تک جاری رہے، جن میں تہران، نطنز، تبریز اور اصفہان جیسے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران نے جمعہ کی رات "آپریشن ٹرو پرامس III" کے نام سے جوابی حملہ کیا، جس میں تل ابیب سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میزائلوں نے کیریا کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنایا، جو اسرائیلی فوج کے مرکزی کمانڈ اور وزارت دفاع کا مرکز ہے اور جسے اکثر اسرائیل کا "پینٹاگون" کہا جاتا ہے۔

دریافت کیجیے
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"