امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے جون کے مہینے میں تباہ کئے گئے ایٹمی پروگرام کو دوبارہ بحال کیا تو امریکہ نہایت تیزی سے نئے حملے شروع کر دے گا۔
بروز سوموار فلوریڈا میں مار-اے-لاگو رہائش گاہ سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے استقبال کے دوران اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ "ایران کی دوبارہ مستحکم ہونے کی کوششوں سے متعلق خبریں میرے کانوں تک پہنچ رہی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ہمارا انہیں روکنا ضروری ہے اور ہم انہیں سخت شکل میں نشانہ بنائیں گے"۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ "ہم ابھی بھی ایک 'معاہدے' پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ یہ معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ عقلی ہو گا۔آپ جانتے ہیں کہ پچھلی بار ہمارے ان پر حملے سے قبل ان کے پاس موقع تھا، وہ کوئی معاہدہ کر سکتے تھے "۔
گذشتہ موسم گرما میں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران ٹرمپ نے اسرائیل سے ایران پر حملہ نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بلا اشتعال ایران پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے سے 12 روزہ جنگ شروع ہوئی جو آخر کار ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے ساتھ ختم ہوئی تھی۔













