وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کے حامی تقریباً 2,000 شہریوں نے اتوار کو دارالحکومت کاراکاس میں مظاہرہ کیا اور نیویارک کی ایک جیل میں بند مادورو اور ان کی اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مظاہرین نے وینزویلا کے پرچم اور احتجاجی نعروں والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ۔ مظاہرے میں، مادورو کے حامی نیم فوجی گروپ اور موٹر بائیک سواربھی شامل تھے ۔
مظاہرین میں سے ایک نے"ہمارا صدر آزاد کرو" کے نعرے اور مادورو کے پیش رُو مرحوم سوشلسٹ صدر ہیوگو شاویز کی تصویر والا پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا۔
ایک اور پلے کارڈ پر "وینزویلا کسی کی کالونی نہیں ہے" کا نعرہ رقم تھا۔ یہ نعرہ ، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بروز ہفتہ جاری کردہ اور وینزویلا کا اقتدار ہاتھ میں لینے سے متعلقہ اعلان کی طرف اشارہ تھا ۔
واضح رہے کہ مادورو ،اپنے اوپر لگائے گئے 'نارکو ٹیرر ازم' الزام پر پیشی کے لئے، آج بروز سوموار نیویارک عدالت میں پیش ہوں گے ۔
وینزویلا کے ہسپتالوں نے علی الصبح کئے گئے حملوں میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد بتانے سے انکار کر دیا ہے۔
کیا فضائی دفاع کام نہیں کر پایا؟
وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز نے کہا ہےکہ مادورو کی سکیورٹی ٹیم کا ایک بڑا حصہ "سرد مہری سے" قتل کیا گیا ہے اس کے علاوہ فوجی اہلکار اور عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔تاہم انہوں نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی کوئی حتمی تعداد نہیں بتائی۔
ڈاکٹروں کے ایک گروپ کی ' اے ایف پی' کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق تقریباً 70 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے ہیں۔
کاراکاس کے مظاہرے میں ، مادورو کو ان کے قریبی حلقے کی طرف سے دھوکہ دیئے جانے اور نتیجتاً امریکی خصوصی فوجی دستوں کو ملک کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر اُترنے کا موقع فراہم کئے جانے سے متعلق، چہ میگوئیوں کی بازگشت بھی سُنائی دیتی رہی۔
مظاہرین میں69 سالہ اکاؤنٹنٹ 'پاپا جوانچو' نے کہا ہے کہ "یہ کیسے ممکن ہے... کہ فضائی دفاع کام نہیں کر پایا ؟ نکولس مادورو کو غداروں نے اغوا کروایا ہے۔ کیونکہ اتنی سکیورٹی میں انہیں اغوا کرنا ممکن نہیں تھا"۔
مادورو کے بیٹے'نکولس مادورو گوئیرا' نے بھی اتوار کو سوشل میڈیا سے جاری کردہ ایک آڈیو پیغام میں اپنے والد کے اطراف میں جاسوسوں کی موجودگی کا شبہ ظاہر کیا اور کہا تھا کہ "تاریخ بتائے گی کہ غدار کون تھے"۔










