غّزہ جنگ
4 منٹ پڑھنے
حماس: صمود فلوٹیلا کے خلاف کاروائی شہریوں کے خلاف بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی ہے
اسرائیل کا 'گلوبل صمود فلوٹیلا' کو روکنا "شہریوں کے خلاف بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی" ہے، "دنیا بھر میں آزادی کے حامی" اس حملے کی مذمت کریں: حماس
حماس: صمود فلوٹیلا کے خلاف کاروائی شہریوں کے خلاف بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی ہے
Hamas denounces Israel’s storming of the Gaza flotilla as "piracy and terrorism" amid wide international condemnation. / AP

فلسطین تحریکِ مزاحمت 'حماس 'نے غزہ کی طرف عازمِ سفر 'گلوبل صمود فلوٹیلا' کو روکنے پر اسرائیل کی مذمت کی،  اسے "شہریوں کے خلاف بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی" قرار دیا اور "دنیا بھر میں آزادی کے حامیوں" سے اس حملے کی مذمت کرنے کی اپیل کی ہے۔

حماس  نے کہا  ہےکہ بین الاقوامی پانیوں میں ،  امدادی کارکنوں اور صحافیوں کی گرفتاری  کرکے کی گئی یہ مداخلت "جارحیت کا ایک غدارانہ فعل" ہے جس نے "اسرائیل کے مجرمانہ سیاہ ریکارڈ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔"

فلسطین اسلامی جہاد نے بھی اسی طرح کا بیان جاری کیا، اسرائیلی کارروائی کو "بحری قزاقی اور بین الاقوامی و انسانی سمجھوتوں کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیا اور کہا ہے کہ اگر  جہاز پر موجود شرکاء کی صحت و سلامتی کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کا   "مکمل طور پر ذمہ دار"  اسرائیل ہو گا۔

بین الاقوامی مذّمت

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق فرانسسکا البانیز نے کہا  ہےکہ اسرائیل کی طرف سے فلوٹیلا کے کارکنوں کی گرفتاری "غیر قانونی" ہے اور مغربی حکومتوں پر اسرائیل کے ساتھ  ملی بھگت کا الزام لگایا ہے۔

یورپ بھر کی حکومتوں نے اسرائیلی کاروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

فرانس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا  ہےکہ وہ "شرکاء کی حفاظت کو یقینی بنائے اور انہیں قونصلر تحفظ فراہم کرے۔"

سوئٹزرلینڈ نے کہا ہے کہ فلوٹیلا کے خلاف کوئی بھی کارروائی "ضرورت اور تناسب کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے اور جہاز پر موجود افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔"

ترکیہ وزارت خارجہ نے اسرائیلی بحریہ کے اس فعل کو "دہشت گردانہ کارروائی" قرار دیا اور اس کی  "شدید ترین الفاظ میں" مذمت کی ہے۔

اسپین نے کہا ہے کہ وہ اس صورتحال پر بغور نگاہ رکھے ہوئے  ہے اور خطے میں اپنے قونصل خانوں کو "چوکس " کر دیا ہے۔

بیلجیم نے اسرائیل سے مطالبہ کیا  ہےکہ وہ " بشمول بحری قوانین بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور فلوٹیلا کے جہازوں کی حفاظت کرے۔"

آئرلینڈ نے اس مداخلت کو "تشویشناک" قرار دیا ہے۔

آئرلینڈ کے صدر مائیکل ہیگنز نے کہا ہے کہ اسرائیل کی یہ کارروائی اور غزہ کی طرف جانے والے راستوں  کی بندش "پوری دنیا کے لیے تشویشناک" ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کو غزہ میں "نسل کشی کی پالیسیوں" سے جوڑا  اور خبردار کیا  ہےکہ کارکنوں کی حفاظت "تمام اقوام کے لیے ایک پُر تشویش معاملہ" ہے ۔

یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے بھی اس معاملے پر اظہار خیال کیا ہے۔

اطالوی ایم ای پی برانڈو بینیفائی نے اس مداخلت کو "غیر قانونی اور مجرمانہ فعل" قرار دیا اور کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو فلوٹیلا کی حفاظت کرنی چاہیے تھی۔

جنوبی امریکہ کا ردعمل

جنوبی امریکہ سے بھی مذمت سامنے آئی ہے۔

کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے دو کولمبیائی شہریوں کی گرفتاری کے بعد اسرائیل کے سفارتی وفد کو ملک بدر کر دیا اور اس کارروائی کو وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی جانب سے "ایک نیا بین الاقوامی جرم" قرار دیا ہے۔

برازیل نے اپنے 15 شہریوں کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا اور وینزویلا نے اس مداخلت کو "بزدلانہ بحری قزاقی" قرار دیا ہے۔

یوروگوئے نے "شدید تشویش" کا اظہار کیا اور بولیویا کے صدر لوئس آرسی نے اس حملے کو "بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔

چلی نے فلوٹیلا پر موجود اپنے شہریوں کی حمایت کی تصدیق کی اور اسرائیل کو ان کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ایشیا کی مذّمت

ایشیائی ممالک نے بھی اسرائیل کے اس تازہ حملے کی مذمت میں آواز بلند کی ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس حملے کو "وحشیانہ" قرار دیا، اس کی  سخت مذمت کی اور کہا ہے کہ امن کو موقع دیا جانا چاہیے اور انسانی امداد ضرورت مندوں تک پہنچنی چاہیے۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک تل ابیب کو خاص طور پر اپنے شہریوں کے معاملے میں جوابدہ ٹھہرانے کے لیے تمام قانونی اقدامات کرے گا۔

مالدیپ کے صدر محمد معیزو نے اسرائیلی حملے کو "ناقابل قبول" قرار دیا اور کہا ہے کہ اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

معیزو نے کہا  ہے کہ "ایک انسانی قافلے کو نشانہ بنانا ،جو آزادی اور بنیادی ضروریات سے محروم آبادی کو امداد فراہم کر رہا تھا، انسانیت اور بین الاقوامی قانون کے لیے ایک سنگین توہین ہے" ۔

گلوبل صمود فلوٹیلا، جو انسانی امداد اور طبی سامان لے کر جا رہا تھا، اگست کے آخر میں روانہ ہوا  اور معمول کے حالات میں اس وقت تک امدادی بیڑے کے غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی توقع تھی۔

یہ کئی سالوں میں سب سے بڑا امدادی مشن تھا جس میں 50 جہازوں پر 45 سے زائد ممالک کے 500 سے زیادہ کارکن شامل تھے۔

دریافت کیجیے
اسرائیل نے 6 لبنانیوں کو ہلاک کر دیا
اسرائیلی فوج نے دو فلسطینیوں کو قتل کر دیا
لبنان کے متعدد علاقوں پر اسرائیلی حملے، 7 افراد ہلاک
غزہ میں تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک
اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تنازع سے ہتھیاروں پر پابندی لگ سکتی ہے — رپورٹ
اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون
اسرائیل نے غزہ میں ایک فلسطینی بچے کو اس کے والد کی گود میں قتل کر دیا
قابض اسرائیلیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں مسجد پر حملہ اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا
غزہ پر اسرائیلی حملے جاری،مزید 3 فلسطینی ہلاک
سروے کے مطابق نتن یاہو کی لیکود پارٹی کی حمایت ایک سال کی کم ترین سطح پر
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ: "مجھے رہا کیا جائے"
اسرائیل نے غزہ میں مزید آٹھ فلسطینیوں کو قتل کر دیا
36 ممالک کی اکثریت اسرائیل کے بارے میں منفی سوچ رکھتی ہے
غزّہ پر اسرائیلی حملے: متعدد فلسطینی زخمی
مسجد الاقصی میں عید الاضحی
غزہ میں اسرائیلی حملوں کے سائے میں عید الاضحی: 9 فلسطینی شہید
ترکیہ اسرائیل کے خلاف آئی سی جے میں نسل کشی کے معاملے کا بڑا حمایتی ہے، جنوبی افریقہ
ملائیشیا غزہ فلوٹیلا کارکنوں سے بد سلوکی پر اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع گا
اسرائیلی فوج نے عید الضحیٰ کی خریداری کے دوران مغربی کنارے کے علاقوں کی دکانیں بند کر دیں
غزہ میں انسانی صورتحال تاحال بد ترین حالت میں ہے، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں