غّزہ جنگ
4 منٹ پڑھنے
حماس: صمود فلوٹیلا کے خلاف کاروائی شہریوں کے خلاف بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی ہے
اسرائیل کا 'گلوبل صمود فلوٹیلا' کو روکنا "شہریوں کے خلاف بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی" ہے، "دنیا بھر میں آزادی کے حامی" اس حملے کی مذمت کریں: حماس
حماس: صمود فلوٹیلا کے خلاف کاروائی شہریوں کے خلاف بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی ہے
Hamas denounces Israel’s storming of the Gaza flotilla as "piracy and terrorism" amid wide international condemnation. / AP
2 اکتوبر 2025

فلسطین تحریکِ مزاحمت 'حماس 'نے غزہ کی طرف عازمِ سفر 'گلوبل صمود فلوٹیلا' کو روکنے پر اسرائیل کی مذمت کی،  اسے "شہریوں کے خلاف بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی" قرار دیا اور "دنیا بھر میں آزادی کے حامیوں" سے اس حملے کی مذمت کرنے کی اپیل کی ہے۔

حماس  نے کہا  ہےکہ بین الاقوامی پانیوں میں ،  امدادی کارکنوں اور صحافیوں کی گرفتاری  کرکے کی گئی یہ مداخلت "جارحیت کا ایک غدارانہ فعل" ہے جس نے "اسرائیل کے مجرمانہ سیاہ ریکارڈ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔"

فلسطین اسلامی جہاد نے بھی اسی طرح کا بیان جاری کیا، اسرائیلی کارروائی کو "بحری قزاقی اور بین الاقوامی و انسانی سمجھوتوں کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیا اور کہا ہے کہ اگر  جہاز پر موجود شرکاء کی صحت و سلامتی کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کا   "مکمل طور پر ذمہ دار"  اسرائیل ہو گا۔

بین الاقوامی مذّمت

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق فرانسسکا البانیز نے کہا  ہےکہ اسرائیل کی طرف سے فلوٹیلا کے کارکنوں کی گرفتاری "غیر قانونی" ہے اور مغربی حکومتوں پر اسرائیل کے ساتھ  ملی بھگت کا الزام لگایا ہے۔

یورپ بھر کی حکومتوں نے اسرائیلی کاروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

فرانس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا  ہےکہ وہ "شرکاء کی حفاظت کو یقینی بنائے اور انہیں قونصلر تحفظ فراہم کرے۔"

سوئٹزرلینڈ نے کہا ہے کہ فلوٹیلا کے خلاف کوئی بھی کارروائی "ضرورت اور تناسب کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے اور جہاز پر موجود افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔"

ترکیہ وزارت خارجہ نے اسرائیلی بحریہ کے اس فعل کو "دہشت گردانہ کارروائی" قرار دیا اور اس کی  "شدید ترین الفاظ میں" مذمت کی ہے۔

اسپین نے کہا ہے کہ وہ اس صورتحال پر بغور نگاہ رکھے ہوئے  ہے اور خطے میں اپنے قونصل خانوں کو "چوکس " کر دیا ہے۔

بیلجیم نے اسرائیل سے مطالبہ کیا  ہےکہ وہ " بشمول بحری قوانین بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور فلوٹیلا کے جہازوں کی حفاظت کرے۔"

آئرلینڈ نے اس مداخلت کو "تشویشناک" قرار دیا ہے۔

آئرلینڈ کے صدر مائیکل ہیگنز نے کہا ہے کہ اسرائیل کی یہ کارروائی اور غزہ کی طرف جانے والے راستوں  کی بندش "پوری دنیا کے لیے تشویشناک" ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کو غزہ میں "نسل کشی کی پالیسیوں" سے جوڑا  اور خبردار کیا  ہےکہ کارکنوں کی حفاظت "تمام اقوام کے لیے ایک پُر تشویش معاملہ" ہے ۔

یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے بھی اس معاملے پر اظہار خیال کیا ہے۔

اطالوی ایم ای پی برانڈو بینیفائی نے اس مداخلت کو "غیر قانونی اور مجرمانہ فعل" قرار دیا اور کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو فلوٹیلا کی حفاظت کرنی چاہیے تھی۔

جنوبی امریکہ کا ردعمل

جنوبی امریکہ سے بھی مذمت سامنے آئی ہے۔

کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے دو کولمبیائی شہریوں کی گرفتاری کے بعد اسرائیل کے سفارتی وفد کو ملک بدر کر دیا اور اس کارروائی کو وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی جانب سے "ایک نیا بین الاقوامی جرم" قرار دیا ہے۔

برازیل نے اپنے 15 شہریوں کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا اور وینزویلا نے اس مداخلت کو "بزدلانہ بحری قزاقی" قرار دیا ہے۔

یوروگوئے نے "شدید تشویش" کا اظہار کیا اور بولیویا کے صدر لوئس آرسی نے اس حملے کو "بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔

چلی نے فلوٹیلا پر موجود اپنے شہریوں کی حمایت کی تصدیق کی اور اسرائیل کو ان کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ایشیا کی مذّمت

ایشیائی ممالک نے بھی اسرائیل کے اس تازہ حملے کی مذمت میں آواز بلند کی ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس حملے کو "وحشیانہ" قرار دیا، اس کی  سخت مذمت کی اور کہا ہے کہ امن کو موقع دیا جانا چاہیے اور انسانی امداد ضرورت مندوں تک پہنچنی چاہیے۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک تل ابیب کو خاص طور پر اپنے شہریوں کے معاملے میں جوابدہ ٹھہرانے کے لیے تمام قانونی اقدامات کرے گا۔

مالدیپ کے صدر محمد معیزو نے اسرائیلی حملے کو "ناقابل قبول" قرار دیا اور کہا ہے کہ اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

معیزو نے کہا  ہے کہ "ایک انسانی قافلے کو نشانہ بنانا ،جو آزادی اور بنیادی ضروریات سے محروم آبادی کو امداد فراہم کر رہا تھا، انسانیت اور بین الاقوامی قانون کے لیے ایک سنگین توہین ہے" ۔

گلوبل صمود فلوٹیلا، جو انسانی امداد اور طبی سامان لے کر جا رہا تھا، اگست کے آخر میں روانہ ہوا  اور معمول کے حالات میں اس وقت تک امدادی بیڑے کے غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی توقع تھی۔

یہ کئی سالوں میں سب سے بڑا امدادی مشن تھا جس میں 50 جہازوں پر 45 سے زائد ممالک کے 500 سے زیادہ کارکن شامل تھے۔

دریافت کیجیے
ایران میں فوجی اتارنے کا امکان،امریکہ ویت نام کو نہ بھولے: ایران
نائیجیریا میں خودکش حملوں میں متعدد افراد ہلاک، 100 زخمی
ایران-امریکہ جنگ میں 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں:سینٹرل کمانڈ
مرکزِ بحالی پر پاک فوج کے مبینہ حملے میں 400 افراد ہلاک ہونے کا دعوی
بھارت: ہسپتال میں آگ لگ گئی، دس مریضوں کی موت
ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی پانچویں رکن نے بھی آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست واپس لے لی
امریکہ کا ایران کے خلاف جنگ کا بل 12 ارب ڈالر ہے: وائٹ ہاؤس
آسکر ایوارڈز: مائیکل بی جارڈن بہترین اداکار اور جیسی بکلی  بہترین اداکارہ قرار
یوکرین کے ڈرون حملے، روسی تیل کے ذخائر نشانے پر
افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات میں اضافے کے وقت پاکستان کا قندھار پر حملہ
حلیف ممالک نے ایران کے خلاف جنگ میں مدد نہیں کی تو نیٹو کا مستقبل بہت برا ہو گا:ٹرمپ
لبنان میں بری کاروائی کا امکان،اسرائیل کافوجی نفری کی تعداد بڑھانے پر غور
اسرائیلی سیکیورٹی افسران کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ متوقع رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہی
غزہ پر اسرائیلی فضائی حملہ، ایک بچے اور حاملہ عورت سمیت 4 فلسطینی ہلاک
اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی جوڑے اور ان کے دو بچوں کو گولی مار کے قتل کر دیا