دنیا
2 منٹ پڑھنے
روس-یوکرین امن کوششوں کے لیے میزبانی کرنے پر روس نے ترکیہ کی کوششوں کو سراہا ہے
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ماسکو یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے پر ترکیہ کی کوشش کو سراہتا ہے، لیکن اس نے کیف کو مذاکرات میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
روس-یوکرین امن کوششوں کے لیے میزبانی کرنے پر روس نے ترکیہ کی کوششوں کو سراہا ہے
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کیف پر استنبول مذاکرات کے ادوار کو سبوتاژ کرنے پر تنقید کی۔ [فائل فوٹو] / AP

روس نے یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے پر ترکیہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ گفت و شنید کا کوئی بھی  فارمیٹ قابل قبول ہے بشرطیکہ یہ  سیاسی، سفارتی یا انسانی حل پیش کرے جس سے  ٹھوس نتائج اخذ کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا، "ہم ہمیشہ ان اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو وہ ممالک اٹھاتے ہیں جو گفت و شنید کے عمل کے لیے اپنے مقامات فراہم کرتے ہیں یا اس حوالے سے اپنے میکانزم، ماڈلز اور تصورات تیار کرتے ہیں۔"

ترکیہ نے بارہا مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے، اور چوتھے سال میں داخل ہونے والی  جنگ کے دوران یہ  چند ایسے ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے صحیح معنوں میں اس ضمن میں  میزبانی کی ہے۔

زاخارووا نے کہا کہ یوکرین کے منفی رویے کے باوجود ماسکو ہمیشہ لوگوں کے مفاد، انسانی مسائل کے حل اور امن کی طرف بڑھنے کے لیے رابطوں میں رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "لیکن  ہم  نے مشاہدہ کیا ہے کہ استنبول کے دوروں کو کیف کی انتظامیہ نے سبوتاژ کیا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری تازہ ترین تمام  تر ملاقاتوں کی  پیشکش کو ٹھکرا دیا گیا ہے۔ ایک بار پھر اپنے ارادے کا اعلان کرنے کے بعد انہوں نے بالکل الٹ کیا۔ یا  پھر دوسرے معنوں میں  انہوں نے بالکل کچھ نہیں کیا۔"

انہوں نے مزید کہا: "ہم ہمیشہ اپنی قدر دانی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس خاص معاملے میں، ہم ترکیہ کی مہمان نوازی اور روس-یوکرین مذاکرات کے لیے اپنا مقام فراہم کرنے کی آمادگی پر شکر گزار ہیں۔ ہم نے اس فارمیٹ کو مسترد نہیں کیا۔ اسے مسترد کرنے والی کیف کی انتظامیہ تھی۔"

انہوں  نے مزید  کہا کہ جولائی سے یوکرین نے مذاکرات کو معطل کیا ہوا ہے اور روس کی پیشکشوں کا جواب دینے میں ناکام رہا، جن میں سیاسی، عسکری اور انسانی امور کے بارے میں تین اموری  گروپ بنانے کی تجویز بھی شامل تھی ۔ "انہوں نے وفد کی سطح بڑھانے کی پیشکش کا بھی جواب نہیں دیا۔"

 

دریافت کیجیے
روسی میزائل اور ڈراون حملوں میں کیف کے قرب و جوار میں 14 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
فلپائن میں 6.3 کی شدّت کا زلزلہ
چین کے شاانشی صوبے میں شدید بارشوں کے باعث ایک لاکھ 15 ہزار لوگوں کی نقل مکانی
ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر معاہدے کے قریب ہیں: رپورٹ
گوئٹے مالا: فیوگو آتش فشاں میں دھماکے
روسی علاقوں پر یوکرینی ڈراونز کی بارش، ماسکو پر حملے میں پانچ افراد ہلاک
نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی یا ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلاء کو مسترد کرتے ہیں: رپورٹ
امریکہ: 65,000 سے زیادہ شہری اپنے گھروں سے نکال گئے
شمالی کوریا: امریکہ اور اس کے اتحادی ایشیا-پیسیفک میں 'نئے سیکیورٹی بحران' کو ہوا دے رہے ہیں
ترکیہ خفیہ سروس کے چیف کی غزہ امن منصوبے پر بحث کرنے کے لیے حماس کے رہنما سے ملاقات
اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں جولائی میں 2,256 حملے کیے
آسٹریلیا: ایچ فائیو برڈ فلو کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر پرندے ہلاک
ایران: عمان کے ساتھ مذاکرات آبنائے ہرمز  سے بحری آمدروفت کے موضوع پر مرکوز ہیں
اسد اقتدار کا خاتمہ شام سمیت خطے کےلیے ناگزیر تھا: احمد الشراع
یوکرین اور روس کے مابین حملوں میں شدت آگئی،متعدد ہلاکتیں