دنیا
2 منٹ پڑھنے
روس-یوکرین امن کوششوں کے لیے میزبانی کرنے پر روس نے ترکیہ کی کوششوں کو سراہا ہے
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ماسکو یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے پر ترکیہ کی کوشش کو سراہتا ہے، لیکن اس نے کیف کو مذاکرات میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
روس-یوکرین امن کوششوں کے لیے میزبانی کرنے پر روس نے ترکیہ کی کوششوں کو سراہا ہے
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کیف پر استنبول مذاکرات کے ادوار کو سبوتاژ کرنے پر تنقید کی۔ [فائل فوٹو] / AP
28 نومبر 2025

روس نے یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے پر ترکیہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ گفت و شنید کا کوئی بھی  فارمیٹ قابل قبول ہے بشرطیکہ یہ  سیاسی، سفارتی یا انسانی حل پیش کرے جس سے  ٹھوس نتائج اخذ کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا، "ہم ہمیشہ ان اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو وہ ممالک اٹھاتے ہیں جو گفت و شنید کے عمل کے لیے اپنے مقامات فراہم کرتے ہیں یا اس حوالے سے اپنے میکانزم، ماڈلز اور تصورات تیار کرتے ہیں۔"

ترکیہ نے بارہا مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے، اور چوتھے سال میں داخل ہونے والی  جنگ کے دوران یہ  چند ایسے ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے صحیح معنوں میں اس ضمن میں  میزبانی کی ہے۔

زاخارووا نے کہا کہ یوکرین کے منفی رویے کے باوجود ماسکو ہمیشہ لوگوں کے مفاد، انسانی مسائل کے حل اور امن کی طرف بڑھنے کے لیے رابطوں میں رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "لیکن  ہم  نے مشاہدہ کیا ہے کہ استنبول کے دوروں کو کیف کی انتظامیہ نے سبوتاژ کیا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری تازہ ترین تمام  تر ملاقاتوں کی  پیشکش کو ٹھکرا دیا گیا ہے۔ ایک بار پھر اپنے ارادے کا اعلان کرنے کے بعد انہوں نے بالکل الٹ کیا۔ یا  پھر دوسرے معنوں میں  انہوں نے بالکل کچھ نہیں کیا۔"

انہوں نے مزید کہا: "ہم ہمیشہ اپنی قدر دانی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس خاص معاملے میں، ہم ترکیہ کی مہمان نوازی اور روس-یوکرین مذاکرات کے لیے اپنا مقام فراہم کرنے کی آمادگی پر شکر گزار ہیں۔ ہم نے اس فارمیٹ کو مسترد نہیں کیا۔ اسے مسترد کرنے والی کیف کی انتظامیہ تھی۔"

انہوں  نے مزید  کہا کہ جولائی سے یوکرین نے مذاکرات کو معطل کیا ہوا ہے اور روس کی پیشکشوں کا جواب دینے میں ناکام رہا، جن میں سیاسی، عسکری اور انسانی امور کے بارے میں تین اموری  گروپ بنانے کی تجویز بھی شامل تھی ۔ "انہوں نے وفد کی سطح بڑھانے کی پیشکش کا بھی جواب نہیں دیا۔"

 

دریافت کیجیے
ایران: امریکہ کی "بحری قزاقی" کا بھرپور جواب دیا جائے گا
بلغاریہ: 5 سال میں 8 ویں عام انتخابات،رائے دہندگان تذبذب کا شکار
امریکہ-ایران مذکرات اچھی سمت میں ہیں:ٹرمپ
روس:استنبول میں مذکرات کے ممکنہ دوبارہ آغاز کو مثبت دیکھتا ہے
آسڑیلیا اور جاپان کے مابین 7 بلین ڈالر کے جنگی جہازوں کی تیاری کا معاہدہ طے
ایران نے آبنائے ہُرمز کو تمام جہازوں کے لئے کھولنے کا اعلان کر دیا
آرتیمیس دوئم کی ٹیم زمینی ماحول سے ہم آہنگی کے مرحلے میں
آئی ایم ایف: مہنگائی اور سست اقتصادی ترقی یورپ کی منتظر ہے
عرب ممالک کا اسرائیل-لبنان فائر  بندی پر خیر مقدم، اسلحہ کو سرکاری کنٹرول میں لینے پر زور
بوسنیا کے 'قصاب' کو فالج کا دورہ
یوکرین: روسی حملوں میں تین افراد ہلاک
پینٹاگون: کیوبا میں ممکنہ فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی تیز کر دی ہے
فلسطین: اب بیانات کی نہیں عمل کی ضرورت ہے
ایران کے ساتھ جنگ  ختم ہو رہی ہے:ٹرمپ
ویتنام: تو لام کا دورہ چین، تعاون کے معاہدوں پر دستخط
روس: لاوروف، چین کے 2 روزہ دورے پر
اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کر دیا
سعودی عرب: امریکہ ہُرمز سے ناکہ اٹھائے
چین اور ہسپانیہ، منتشر ہوتے عالمی نظام کے مقابل، مضبوط باہمی تعلقات کی تلاش میں
مقبوضہ مغربی کنارے کے عملی "جزوی الحاق" کو روکا جائے: میرز