سیاست
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ، انڈونیشیا کو 48 عدد قاآن لڑاکا طیارے فراہم کرے گا
ترکش ایرو اسپیس انڈسٹریز 'توساش' نے انڈونیشیا کی دفاعی کمپنیوں کے ساتھ 48 عدد قاآن'KAAN' لڑاکا طیاروں کی برآمد کا معاہدہ طے کر لیا
ترکیہ، انڈونیشیا کو 48 عدد قاآن لڑاکا طیارے فراہم کرے گا
KAAN embodies the peak of Turkish aerospace engineering as a fifth-generation multirole combat aircraft. / Anadolu Agency

ترکش ایرو اسپیس انڈسٹریز 'توساش' نے انڈونیشیا کی دفاعی کمپنیوں'پی ٹی ڈیرگانٹارا انڈونیشیا' PT Dirgantara Indonesia اور 'پی ٹی ریپبلک ایرو ڈیرگانٹارا' PT Republik Aero Dirgantara کے ساتھ  48 عدد قاآن'KAAN' لڑاکا طیاروں کی برآمد کے لیے معاہدہ  طے کر لیا ہے۔

معاہدہ، ترکیہ کے شہر  استنبول میں منعقدہ  "بین الاقوامی دفاعی صنعت " IDEF کے دوران طے پایا ہے ۔ معاہدہ،  پیداوار، انجینئرنگ، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں تعاون کا احاطہ کرتا ہے۔ طیاروں کی فراہمی 120 مہینوں کے اندر مکمل کی جائے گی اور طیاروں کے  انجن ترکیہ میں تیار کیے جائیں گے۔

دفاعی صنعتوں کے صدر'حالوق گورگن' نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ جون میں طے پانے والے بین الحکومتی فریم ورک سمجھوتے  کے بعدطے کیا گیا ہے۔طیاروں کی یہ  فروخت  دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں ایک 'تاریخی لمحے'  کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "اس تاریخی لمحے   کا گواہ بننے پر میں نہایت خوشی  محسوس کر رہا ہوں  ۔ اس وقت  ہم پرجوش بھی  ہیں اور  فخر بھی محسوس کر رہے ہیں۔"

گورگن نے مزید کہا ہے کہ "ہم، اس تعاون کے ذریعے، انڈونیشیا کے مقامی صنعتی ڈھانچے کے قیام کے ساتھ تعاون  کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان پیداوار اور انجینئرنگ کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔"

اس سوال کے جواب میں کہ آیا دیگر ممالک کے ساتھ بھی 'قاآن' KAAN کی فروخت کے لیے بات چیت جاری ہے؟  گورگن نے کہا ہے کہ "بہت سے ممالک ہیں۔ وقت آنے پر ہم تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔"

KAAN ترکیہ کا پہلا مقامی لڑاکا طیارہ ہے  جس نے  2024 کے اوائل میں اپنی پہلی پرواز کی۔ طیارے کےتین پروٹوٹائپ تیار کیے گئے  ہیں جن میں سے دو اپریل 2026 میں دوبارہ پرواز کریں گے۔ مسلسل پیداوار  کا پہلا مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔

ترکش ایرو اسپیس انڈسٹریز 'توساش'  کے جنرل منیجر' مہمت دیمراوغلو' نے کہا  ہےکہ'قاآن' نے ترکیہ کو ،اگلی نسل کے لڑاکا طیارے تیار کرنے کی صلاحیت والے ، گنےچُنے ممالک میں شامل کردیا ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ " چار ممالک نے ایسے طیارے بنائے ہیں۔ ایسے کنسورشیم بھی ہیں جو ابھی اس پر کام کر رہے ہیں۔ 2018 کے پیرس ایئر شو میں اعلان کردہ بعض منصوبوں سمیت ان کوششوں کی پہلی پروازیں 2035-2040 تک متوقع ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ"اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے کتنی تیزی سے کام کیا ہے، ہم اس پر کتنا یقین رکھتے ہیں اور ہم کیا  کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔"

دیمراوغلو نے یہ بھی کہا  ہےکہ ترکیہ کے حُرجٹ تربیتی طیارے کے لیے ایک سپلائی معاہدہ اسپین کے ساتھ اس سال کے آخر میں متوقع ہے جو مئی میں دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کے بعد ہوگا۔

انہوں نے کہا ہے کہ "انڈونیشیا میں بڑے پیمانے کے  امکانات موجود ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ خلیجی ممالک میں بھی اہم سطح کے امکانات موجود ہیں۔"

دریافت کیجیے
ترکیہ کوانٹم اور خلائی ٹیکنالوجی کے لئے خصوصی فنڈ مختص کر رہا ہے
اگست دنیا کا گرم ترین مہینہ
آبنائے ہرمز کا نام آبنائے ٹرمپ ہونا چاہیئے:ٹرمپ
اردن کے امریکی اڈے پر ایران کا حملہ،تفصیلات سامنے آ گئیں
فلپائن : فیری میں آگ لگنے سے پانچ افراد ہلاک اور 80 سے زائد لاپتہ
شام میں دھماکہ،ترکیہ کی تعزیت
انڈونیشیا: صحافیوں کو لے جانے والی کشتی لاپتہ ہو گئی
ملائیشیا میں ہیلی کاپٹر کا حادثہ،5 افراد ہلاک
اسرائیل: مقبوضہ مشرقی القدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا جائے
امریکہ کے ایرانی ٹینکروں پر حملے، مشرق وسطی میں تناؤ بڑھ گیا
نیتین یاہو نے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا ہے:نفتالی بینیٹ
نیوزی لینڈ: اسرائیلی کاروائیاں پائیدار امن کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں
جب تک حملہ آور پشیمان نہیں ہوتے ایران مزاحمت جاری رکھے گا: پزشکیان
ترک دفترِ خارجہ کی طرف سے ملادچ کے لیے آخری رسومات کے خصوصی اہتمام پر رد عمل
اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران ایک فلسطینی شخص کو قتل کر  دیا گیا