یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ثلاثی امن مذاکرات کے دوران توانائی کے شعبے میں فائر بندی پر بات ہوئی تھی، جس کے بعد کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک ہفتے کے لیے حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
زیلنسکی نے امریکی صدر ٹرمپ کے ان جائزوں پر ردِ عمل ظاہر کیا ہے کہ ملاقات کے دوران انہوں نے 'ذاتی طور پر' روسی صدر پوتن سے شدید سردی کے درمیان کیف اور دیگر یوکرینی شہروں پر حملےنہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
زیلنسکی نے کہا، 'بجلی کی فراہمی زندگی کی بنیاد ہے۔ ہم اپنی شراکت داروں کی ان کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ہماری جانیں بچانے میں مدد کر رہی ہیں،' انہوں نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا، 'ہماری ٹیموں نے اس معاملے پر متحدہ عرب امارات میں بات چیت کی۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ معاہدوں پر عمل در آمد ہوگا۔ کشیدگی میں کمی کے اقدامات جنگ ختم کرنے کی جانب حقیقی پیش رفت میں حصہ ڈالتے ہیں۔'
اس سلسلے میں مزید بات کرتے ہوئے زیلنسکی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ 'آج رات اور ان دنوں کی صورتحال' دکھا دے گی کہ 'حالات کیا ہیں۔'
روسی، یوکرینی اور امریکی حکام نے اماراتی دارالحکومت ابو ظبی میں 23 تا 24 جنوری کو دو روزہ مشاورت کی۔ ثلاثی امن مذاکرات کا ایک نیا دور عارضی طور پر اتوار کو متوقع ہے، جو دوبارہ ابو ظہبی میں ہوگا۔
روسی حکام نے ابھی تک توانائی کی تنصیبات پر حملوں کو روکنے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔













