مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
بیلجیم، مالٹا، اینڈورا، موناکو اور لکسمبرگ نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا
بیلجیئم، مالٹا، اندورا، موناکو اور لکسمبرگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر رہے ہیں
بیلجیم، مالٹا، اینڈورا، موناکو اور لکسمبرگ نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا
/ AFP

بیلجیئم، مالٹا، اندورا، موناکو اور لکسمبرگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر رہے ہیں اور نیویارک میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ممالک کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔

تینوں ممالک کے رہنماؤں نے یہ اعلانات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر فلسطین اور دو ریاستی حل کے بارے میں ہونے والے اجلاس کے دوران کیے۔

اس اقدام کو مندوبین کی جانب سے سراہا گیا اور اسے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے بین الاقوامی رفتار کو فروغ دینے کے طور پر سراہا گیا۔

مالٹا کے وزیر اعظم نے کہا  کہ یہ اعتراف امن اور انصاف پر ہمارے پختہ یقین کی عکاسی اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت پر یقین رکھتا ہے۔"

 لکسمبرگ کے وزیراعظم  نے اسے ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا ، جبکہ بیلجیم نے کہا کہ یہ اقدام مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کے لئے اس کی دیرینہ حمایت کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

اس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اسی اجلاس میں اس کی منظوری کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں اعلان کرتا ہوں کہ آج فرانس فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرتا ہے  یہ    واحد حل ہے  جو اسرائیل کو امن کے ساتھ رہنے کی اجازت دے گا۔

 میکرون نے کہا کہ یہ فیصلہ فوری ہے کیونکہ غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ، غزہ میں بمباری، قتل عام اور نقل مکانی لوگوں کو روکا جائے۔ غزہ میں جاری جنگ کا کوئی جواز نہیں ہے۔"

میکرون نے ان ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے حال ہی میں تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے ، جن میں اندورا ، آسٹریلیا ، کینیڈا ، موناکو ، پرتگال ، برطانیہ اور سان مرینو شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تسلیم کرنے سے مفید مذاکرات کی راہ ہموار ہوتی ہے  جبکہ  عرب اور مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بعد اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائیں۔

میکرون نے یہ بھی کہا کہ جیسے ہی غزہ میں  قید  تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے گا اور جنگ بندی قائم ہو جائے گی فرانس فلسطین میں اپنا سفارت خانہ کھول  دے گا ۔

 انہوں نے مزید کہا کہ پیرس بین الاقوامی استحکام کے مشن میں تعاون  کے لیے تیار ہے۔

فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں ہونے والی یہ کانفرنس جولائی میں اسی طرح کے اجتماع کے بعد منعقد ہوئی جس میں  امریکہ اور اسرائیل نے شرکت نہیں کی۔

 انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے دو ریاستی حل کے سربراہی اجلاس کا اسرائیل اور امریکہ نے بائیکاٹ کیا تھا  لیکن یہ  فلسطینیوں کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی ثابت ہوا  جس کا اختتام فرانس اور بہت سے دوسرے  ممالک  نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر کیا۔

 

دریافت کیجیے
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"
اسرائیل نے تازہ خلاف ورزیوں میں چار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے
امریکہ نے ایران پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا
نیٹو کا 'فرنٹ ڈور' منصوبہ ،ترک دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا ہدف
ترک خواتین اور مردوں کی ٹیمیں VNL فائنلز میں پہنچ گئیں
فرانس میں پھِیلتی جنگلاتی آگ،سینکڑوں افراد کا انخلا
حملے جاری رہے تو امریکہ اور اس کے عرب اتحادی بھی نہیں بچیں گے:ایران
یورپی یونین کے سفیر روس پر نئے پابندیوں کی تیاریوں میں
"الزامات بے بنیاد ہیں"عدالت میں اپنا مقدمہ چیلنج کروں گا: مادورو