ترک صدر رجب طیب ایردوان اور بلقانی ممالک کے وزرائے خارجہ نے استنبول میں ایک اجلاس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔
ترک صدارتی محکمہ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں مونٹیگرو کے وزیرِ خارجہ ایرون ابراہیمووچ، کوسوو ، بوسنیا ہرزیگووینا کے وزیرِ خارجہ شمالی مقدونیہ کے، البانیہ کی وزیرِ خارجہ اور سربیا کی ڈپٹی وزیرِ خارجہ نے شرکت کی۔
استنبول میں بلقان امن پلیٹ فارم کے دوسرے اجلاس کے انعقاد پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ایردوان نے ممالک کے نمائندوں کا تعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
ترک صدر نے سرحدی سکیورٹی، توانائی، ٹیکنالوجی اور نقل و حمل جیسے امور کے حل اور خطے کے مفادات کے ساتھ کی جانے والی مشاورت کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اور خطہ مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے بلقان پیس پلیٹ فارم کے رکن ممالک کے درمیان یکجہتی اور باہمی سمجھ بوجھ کو مضبوط بنانا اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
انہوں نے خطہ بلقان میں "ماضی کے زخموں سے سبق سیکھنے اور مستقبل کی جانب راستہ ہموار کرنے" کے نقطہ نظر کے ساتھ مل جل کرعمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور ہمارے خطے میں عدم استحکام کے اثرات کم کرتے ہوئے ختم کرنے کی ترکیہ کی کوششوں کا ذکر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قیام ِ امن کے لیے اقدامات کئی جگہوں پر، خاص طور پر یوکرین، غزہ اور شام میں جاری ہیں۔
اجلاس میں وزیرِ خارجہ حاقان فیدان، ترکیہ کے محکمہ اطلاعات کے مواصلاتی سربراہ برہان الدین دوران، صدر کے چیف مشیر عاکف چاعتائے کلچ اور دیگر حکام نے بھی شرکت کی ۔















