جاپان کی وزیرِ اعظم سناے تاکائچی نے بدھ کو اپنے عہدے کو برقرار رکھا، جب پارلیمان نے انہیں دوبارہ منتخب کیا، یہ انتخاب ان کی حکمران جماعت کی حالیہ مختصر مدت کی انتخابات میں زبردست فتح کے بعد ہوا ہے ۔
64 سالہ تاکائچی اکتوبر میں جاپان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنی تھیں اور 8 فروری کو ہونے والے ایوانِ زیریں کے مختصر انتخابات میں ان کی جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی۔
انہوں نے اپنے ملک کے علاقے اور پانیوں کے دفاع کو مضبوط کرنے کا وعدہ کیا ہے، جو بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو مزید تناؤ کا شکار بنا سکتا ہے اور ساتھ ہی کمزور معیشت کو ابھارنے کا عہد بھی کیا ہے۔
انہوں نے نومبر میں اشارہ دیا تھا کہ اگر بیجنگ طاقت کے ذریعے تائیوان پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے تو جاپان عسکری مداخلت کر سکتا ہے۔
چین جو اس جزیرے کو اپنے علاقے کا حصہ سمجھتا ہے اور اسے الحاق کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان نہیں سمجھتا اس بیان پر سخت برہم ہوا تھا۔
بیجنگ کے سینیئر سفارت کار وانگ یی نے ہفتے کو میونخ سکیورٹی کانفرنس میں کہا کہ جاپان میں قوتیں عسکریت پسندی کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، جمعہ کو متوقع ایک پالیسی تقریر میں تاکائچی جاپان کے 'آزاد اور کھلے انڈو-پیسیفک' اسٹریٹجک فریم ورک کو اپ ڈیٹ کرنے کا وعدہ کریں گی۔
حکومت کے چیف ترجمان مینورُو کیہارا نے پیر کو کہا تھا کہ جب FOIP پہلی مرتبہ پیش کیا گیا تھا اس کے مقابلے میں، بین الاقوامی صورتحال اور جاپان کے اردگرد کا سیکیورٹی ماحول نمایاں طور پر زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔'
رپورٹس کے مطابق، تاکائچی کی حکومت قومی خفیہ ایجنسی کے قیام کے لیے قانون سازی پاس کرنے اور خلافِ جاسوسی قانون کے حوالے سے ٹھوس مذاکرات شروع کرنے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔
تاکائچی نے امیگریشن کے قواعد سخت کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے، حالانکہ ایشیا کی دوسری بڑی معیشت مزدوروں کی اور آبادی میں کمی سے دوچار ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، جمعہ کو تاکائچی اپنے انتخابی وعدے کو دہراتی ہوئی خوراک پر صارفین کے ٹیکس کو دو سال کے لیے معطل کرنے کا اعلان کریں گی تاکہ گھریلو سطح پر مہنگائی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
لیکن تاکائچی کا پہلا کام یکم اپریل سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے جاپان کے بجٹ کی منظوری حاصل کرنا ہوگا۔
علاوہ ازیں ،تاکائچی اور ان کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (LDP) میں کئی لوگ ایک خاتون کو شہنشاہ بننے کے قابل بنانے کے حق میں نہیں ہیں مگر قواعد کو تبدیل کر کے نئے مرد ارکان اپنانے کی صورت میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔






