بھارت کے مرکزی بینک نے بریکس ممالک کے سرکاری ڈیجیٹل کرنسیوں کو منسلک کرنے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ سرحد پار تجارت اور سیاحت کی ادائیگیاں آسان ہوں۔
دو ذرائع نے کہا ہے کہ اس سے امریکی ڈالر پر انحصار کم ہو سکتا ہے کیونکہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسیوں (CBDCs) کو جوڑنے کی ایک تجویز کو 2026 کے بریکس اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔
انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ انھیں عوامی طور پر بولنے کی اجازت نہیں تھی۔
بھارت اس اجلاس کی میزبانی کرے گا، جو اس سال منعقد ہوگا۔ اگر سفارش منظور ہو گئی تو بریکس ارکان کی ڈیجیٹل کرنسیوں کو آپس میں منسلک کرنے کی تجویز پہلی بار سامنے آئے گی۔
بریکس تنظیم میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، اور دیگر ممالک بھی اس میں ہیں۔
یہ پہل امریکی حکومت کو ناگوار گزرسکتی ہے جس نے ڈالر کو بائی پاس کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف خبردار کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے بریکس اتحاد کو 'اینٹی امریکن' قرار دیا تھا اور اس کے اراکین پر ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔
RBI، بھارت کی مرکزی حکومت اور برازیل و روس کے مرکزی بینکوں نے تبصرے کے لیے ای میلز کے جواب میں کوئی ردعمل نہیں دیا۔
عوامی چینی بینک نے تبصرے کی درخواست پر کہا کہ اس موضوع پر اس کے پاس شیئر کرنے کے لیے کوئی معلومات نہیں تھیں جبکہ جنوبی افریقہ کے مرکزی بینک نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
بریکس کی ڈیجیٹل کرنسیوں کے اشتراک کو سرحد پار تجارت، فنانسنگ اور سیاحت سے جوڑنے کے لیے RBI کی تجویز پہلے کبھی رپورٹ نہیں کی گئی تھی۔
RBI کی یہ تجویز ریو ڈی جنیرو میں منعقدہ 2025 کے بریکس اجلاس کے ایک اعلان پر مبنی ہےجس میں رکن ممالک کے ادائیگی نظاموں کے درمیان باہمی مطابقت کو فروغ دینے کا کہا گیا تھا تاکہ سرحد پار لین دین زیادہ مؤثر ہوں۔
RBI نے عوامی طور پر بھی بھارت کے ڈیجیٹل روپئے کو دیگر ممالک کی سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسیوں کے ساتھ جوڑنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے تاکہ سرحد پار لین دین کو تیز کیا جا سکے اور اپنی کرنسی کے عالمی استعمال کو مضبوط بنایا جا سکے تاہم، اس نے کہا ہے کہ روپئے کے عالمی استعمال کے فروغ کی کوششیں ڈی – ڈالر ائزیشن (de-dollarisation) کے فروغ کے لیے نہیں ہیں۔
اگرچہ بریکس کے کسی رکن نے اپنی ڈیجیٹل کرنسی کو مکمل طور پر لانچ نہیں کیا مگر ان پانچوں بڑے ارکان میں سے ہر ایک نے پائلٹ منصوبے ضرور چلائے ہیں۔
بھارت کی ڈیجیٹل کرنسی جسے ای-روپیہ کہا جاتا ہے دسمبر 2022 میں لانچ کے بعد سے اب تک کل 7 ملین صارفین کو متوجہ کر چکی ہے، جبکہ چین نے ڈیجیٹل یوان کے بین الاقوامی استعمال کو بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔
RBI نے ای-روپئے کے اپنانے کی حوصلہ افزائی کے لیے آف لائن ادائیگیاں ممکن بنائیں، حکومتی سبسڈی ٹرانسفرز کے لیے پروگرام ایبل صلاحیت فراہم کی اور فنٹیک کمپنیوں کو ڈیجیٹل کرنسی والیٹس پیش کرنے کی اجازت دی۔
ایک ذرائع نے کہا کہ بریکس ڈیجیٹل کرنسی لنکیجز کی کامیابی کے لیے باہمی طور پر مطابقت پذیر ٹیکنالوجی، گورننس کے قواعد اور تجارتی حجم کے عدم توازن کو نمٹانے کے طریقے جیسے عناصر بحث کے موضوعات ہوں گے۔
ذرائع نے خبردار کیا کہ ارکان کی طرف سے دوسرے ممالک کے تکنیکی پلیٹ فارمز اپنانے میں ہچکچاہٹ اس تجویز پر کام میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ٹھوس پیش رفت کے لیے ٹیکنالوجی اور ضوابط پر اتفاق رائے درکار ہوگا۔
دونوں ذرائع کے مطابق ممکنہ تجارتی عدم توازن کو سنبھالنے کے لیے ایک تجویز مرکزی بینکوں کے درمیان باہمی غیرملکی زر مبادلہ (فوریکس) SWAP انتظامات کے استعمال کی بھی ہے۔
روس اور بھارت کی جانب سے اپنی مقامی کرنسیوں میں زیادہ تجارت کرنے کی سابقہ کوششیں رکاوٹوں کا شکار ہوئیں۔ روس نے بھارتی روپئے کے بڑے بیلنسز جمع کر لیے جن کا استعمال محدود تھا، جس کے باعث بھارت کے مرکزی بینک نے ایسے بیلنسز کو مقامی بانڈز میں سرمایہ کاری کی اجازت دی۔
دوسرے ذریعہ نے کہا کہ لین دین کی ہفتہ وار یا ماہانہ تصفیہ جات SWAP کے ذریعے کیے جانے کی تجویز دی جا رہی ہے۔
بریکس کی بنیاد 2009 میں برازیل، روس، بھارت اور چین نے رکھی، بعد ازاں جنوبی افریقہ اس میں شامل ہوا اور پھر متحدہ عرب امارات، ایران اور انڈونیشیا جیسے نئے ارکان شامل ہوتے گئے۔
جزوی طور پر ٹرمپ کی دوبارہ شروع ہونے والی تجارتی جنگ کی زبان اور ٹیکس کی دھمکیوں کی وجہ سے اس بلاک کو دوبارہ توجہ ملی ہے، جن میں اُن ممالک کے خلاف وارننگز بھی شامل ہیں جو بریکس کے ساتھ ہمدردی اختیار کرتے ہیں۔ اسی دوران، بھارت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی تکرار کا سامنا کرتے ہوئے روس اور چین کے قریب قدم بڑھائے ہیں۔
اگرچہ عالمی سطح پر اسٹیک کوائنز کے بڑھتے ہوئے اپنانے کی وجہ سے CBDCs میں دلچسپی کم ہوئی ہے، بھارت پھر بھی اپنے ای-روپئے کو ایک محفوظ اور زیادہ منظم متبادل کے طور پر پوزیشن دے رہا ہے۔
RBI کے ڈپٹی گورنر ٹی رابی سنکر نے گزشتہ ماہ کہا کہ CBDCs 'اس طرح کے بہت سے خطرات کا سبب نہیں بنتے جو اسٹیک کوائنز سے منسلک ہوتے ہیں'۔
سنکر نے کہا، 'غیر قانونی ادائیگیوں کی سہولت اور کنٹرول اقدامات کے گریز کے علاوہ، اسٹیک کوائنز مالی استحکام، مالیاتی پالیسی، بینکنگ ثالثی اور نظامی مضبوطی کے حوالے سے اہم خدشات پیدا کرتے ہیں۔'
رائٹرز نے ستمبر میں اطلاع دی تھی کہ بھارت کو خدشہ ہے کہ اسٹیک کوائنز کے وسیع پیمانے پر استعمال سے قومی ادائیگی نظام تقسیم ہو سکتا ہے اور اس کے ڈیجیٹل ادائیگی کے ماحولیاتی نظام کو کمزور کر سکتا ہے۔










