چین نے کہا ہےکہ ہم، اقوام متحدہ کے مرکز والے، بین الاقوامی نظام کا دفاع کریں گے۔
چین نے یہ بیان،امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے "امن کمیٹی" میں شمولیت کی دعوت موصول ہونے کے بعد، آج بروز بدھ جاری کیا ہے۔
اے ایف پی کو دِکھائے گئے ضابطہ عمل کے مطابق 'امن بورڈ' جنگوں کا حل تلاش کرنے کی خاطر قائم کیا گیاہے اور بیجنگ نے بروز منگل امن بورڈ میں شرکت کے لئے دعوت نامہ موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اگرچہ چین نے تاحال دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا لیکن چین وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیائکُن نے آج بروز بدھ ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ بیجنگ، 'تبدیلیوں' کے باوجود، اقوامِ متحدہ پر مبنی بین الاقوامی نظام کی حمایت کرے گا۔
گو نے کہا ہے کہ "جہاں تک اقوامِ متحدہ کا تعلق ہے، چین ہمیشہ حقیقی کثیرالفریقی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔ بین الاقوامی صورتِ حال خواہ کتنی ہی تبدیل کیوں نہ ہو جائے چین، اقوام متحدہ کے مرکز والے بین الاقوامی نظام کا اور اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں پر مبنی بین الاقوامی تعلقات کا دفاع جاری رکھے گا"۔
بیجنگ سے شائع ہونے والے روزنامے 'گلوبل ٹائمز 'کے مطابق گو نے، ٹرمپ کے اقوامِ متحدہ کو برقرار رہنے کی حمایت کے ساتھ ساتھ "امن بورڈ" کے اقوام متحدہ کی جگہ لینے سے متعلقہ اشاروں پر مبنی بیان سے متعلقہ سوالات کے جواب دیئے۔
واضح رہے کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کا دائمی رکن ملک 'چین' اقوامِ متحدہ کے نظام کے دفاع کے ساتھ ساتھ اصلاحات کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔
گذشتہ ہفتے بروز جمعہ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیاتھا کہ"بورڈ آف پیس"کا قیام ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کی تکمیل میں 'اہم کردار' ادا کرے گا۔ مذکورہ 20 نقاطی منصوبے کا مقصد اسرائیل کی غزہ جنگ کا مستقل خاتمہ،زیرِ محاصرہ غزّہ پٹی کی تعمیر نو، حکمتِ عملی کی نگرانی ، بین الاقوامی وسائل کی حرکت اور غزّہ امن مرحلے کے دوران احتساب کی یقین دہانی کروانا ہے۔
منگل کو وائٹ ہاؤس بریفنگ کے دوران صحافیوں سے بات چیت کے دوران اس سوال کے جوب میں کہ کیا امن بورڈ اقوم متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے؟ ٹرمپ نے کہا تھا کہ "اقوامِ متحدہ زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوا۔ میں اقوامِ متحدہ کی صلاحیت کا بڑا حامی ہوں مگر اس نے اپنی صلاحیت کے مطابق کام نہیں کیا"۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران ان کی انتظامیہ نے تھائی لینڈ، کمبوڈیا، بھارت، پاکستان ، کانگو اور روانڈا میں ملکی دشمنیوں کو ختم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔
امریکہ نے، ٹرمپ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کی خاطر، امن بورڈ کے ذیل میں 'غزّہ کے لئے قومی انتظامیہ کمیٹی' بھی قائم کی ہے۔ نیز ایک بانی ایگزیکٹو بورڈ اور عبوری فریم ورک کی حمایت کے لیے غزہ ایگزیکٹو بورڈ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے، روس اور چین سمیت، متعدد ممالک کو بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔










