بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کو ایک سرکاری تقریب کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔
خالدہ ضیاء، جو 170 ملین آبادی کے حامل بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں، منگل کو 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
اس موقع پر پرچم سرنگوں کیے گئے۔
سترل سالہ ریٹائرڈ سرکاری اہلکار منہاج الدین نے کہا کہ انہوں نے کبھی ان کے حق میں ووٹ نہیں دیا لیکن تین بار ملک کی وزیر اعظم رہنے پر وہ انہیں خراج تحسین پیش کرنے آئے تھے۔
میں اپنے پوتے کے ساتھ یہاں آیا ہوں، صرف ایک تجربہ کار سیاستدان کو الوداع کہنے کے لیے جس کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
سوگوار شرمینہ سراج نے اے ایف پی کو بتایا کہ خالدہ ضیا میرے لیے ایک تحریک رہی ہیں۔
دو بچوں کی 40 سالہ ماں نے کہا کہ ضیاء کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت کے لیے متعارف کرائی گئے وظیفے نے ہماری بچیوں کی زندگیوں پر بہت گہرا اثر مرتب کیا۔
بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کو ایک سرکاری تقریب کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔
خالدہ ضیاء، جو 170 ملین آبادی کے حامل بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں، منگل کو 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
اس موقع پر پرچم سرنگوں کیے گئے۔
سترل سالہ ریٹائرڈ سرکاری اہلکار منہاج الدین نے کہا کہ انہوں نے کبھی ان کے حق میں ووٹ نہیں دیا لیکن تین بار ملک کی وزیر اعظم رہنے پر وہ انہیں خراج تحسین پیش کرنے آئے تھے۔
میں اپنے پوتے کے ساتھ یہاں آیا ہوں، صرف ایک تجربہ کار سیاستدان کو الوداع کہنے کے لیے جس کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
سوگوار شرمینہ سراج نے اے ایف پی کو بتایا کہ خالدہ ضیا میرے لیے ایک تحریک رہی ہیں۔
دو بچوں کی 40 سالہ ماں نے کہا کہ ضیاء کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت کے لیے متعارف کرائی گئے وظیفے نے ہماری بچیوں کی زندگیوں پر بہت گہرا اثر مرتب کیا۔
سالوں کی صحت کی خرابی اور قید کے باوجود ضیاء نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میںاپنی مہم چلائیں گی ۔
خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو وسیع پیمانے پر ایک نمایاں امیدوار سمجھا جاتا ہے، اور ان کے60 سالہ بیٹے طارق رحمان جو 17 سال جلاوطنی کے بعد پچھلے ہفتے واپس آئے ہیں اگر اکثریت حاصل کر لیں تو ممکنہ وزیر اعظم کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ عبوری حکومت جس کی قیادت نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کر رہے تھے اس نے تین دن کے قومی سوگ اور ایک سرکاری تقریب کا اعلان کیا۔
محمدیونس نے کہا کہ بنگلہ دیش نے "ایک عظیم رہنما کھو دیا ہے"۔
خالدہ ضیاء کی نعش ان کے مرحوم شوہر ضیاء الرحمن کے ساتھ دفن کی جائے گی، جنہیں 1981 میں ان کے دور صدارت کے دوران قتل کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ صحت کے متعدد مسائل کی شکار خالدہ ضیاء کو نومبر کے آخر میں ہسپتال لے جایا گیا، جہاں علاج کے باوجود ان کی حالت بگڑ گئی تھی۔
ان کی وفات سے چند گھنٹے قبل پارٹی کارکنوں نے پیر کو ان کی جانب سے اگلے سال کے انتخابات کے لیے تین حلقوں کے لیے نامزدگی کے کاغذات جمع کروا دیے تھے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ضیاء کا "وژن اور ورثہ ہماری شراکت داری کی رہنمائی جاری رکھے گا"، جو حسینہ کے زوال کے بعد نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود ایک گرمجوش پیغام ہے۔
وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر جنازے میں شرکت کریں گے، نئی دہلی نے کہا، جو حسینہ کے معزول ہونے کے بعد بھارتی عہدیدار کا سب سے سینئر دورہ ہے۔
دریں اثنا،پاکستان کے سینئر حکام بھی شرکت کی توقع ہے۔
سالوں کی صحت کی خرابی اور قید کے باوجود ضیاء نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میںاپنی مہم چلائیں گی ۔
خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو وسیع پیمانے پر ایک نمایاں امیدوار سمجھا جاتا ہے، اور ان کے60 سالہ بیٹے طارق رحمان جو 17 سال جلاوطنی کے بعد پچھلے ہفتے واپس آئے ہیں اگر اکثریت حاصل کر لیں تو ممکنہ وزیر اعظم کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ عبوری حکومت جس کی قیادت نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کر رہے تھے اس نے تین دن کے قومی سوگ اور ایک سرکاری تقریب کا اعلان کیا۔
محمدیونس نے کہا کہ بنگلہ دیش نے "ایک عظیم رہنما کھو دیا ہے"۔
خالدہ ضیاء کی نعش ان کے مرحوم شوہر ضیاء الرحمن کے ساتھ دفن کی جائے گی، جنہیں 1981 میں ان کے دور صدارت کے دوران قتل کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ صحت کے متعدد مسائل کی شکار خالدہ ضیاء کو نومبر کے آخر میں ہسپتال لے جایا گیا، جہاں علاج کے باوجود ان کی حالت بگڑ گئی تھی۔
ان کی وفات سے چند گھنٹے قبل پارٹی کارکنوں نے پیر کو ان کی جانب سے اگلے سال کے انتخابات کے لیے تین حلقوں کے لیے نامزدگی کے کاغذات جمع کروا دیے تھے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ضیاء کا "وژن اور ورثہ ہماری شراکت داری کی رہنمائی جاری رکھے گا"، جو حسینہ کے زوال کے بعد نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود ایک گرمجوش پیغام ہے۔
وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر جنازے میں شرکت کریں گے، نئی دہلی نے کہا، جو حسینہ کے معزول ہونے کے بعد بھارتی عہدیدار کا سب سے سینئر دورہ ہے۔
دریں اثنا،پاکستان کے سینئر حکام بھی شرکت کی توقع ہے۔







