وسطی بھارتی شہر اندور میں اسہال کے پھیلاؤ کے بعد کم از کم نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 200 سے زائد کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے جس کا تعلق حکام کے مطابق آلودہ پینے کے پانی سے ہے۔
قانون ساز کیلاش وجے ورگیا نے کہا کہ اندور میں نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اندور کے چیف میڈیکل آفیسرمدھو پرساد حسنی نے فون پر رائٹرز کو بتایا کہ شہر کے بھاگیرتھ پور علاقے میں پینے کا پانی لیک ہونے کی وجہ سے آلودہ ہو گیا ہے اور پانی کے ٹیسٹ سے پائپ لائن میں بیکٹیریا کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
حسنی نے کہا کہ میں ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن ایک ہی علاقے کے 200 سے زائد افراد شہر کے مختلف ہسپتالوں میں علاج کروا رہے ہیں جبکہ متاثرہ علاقے سے حاصل کیے گئے پانی کے نمونے کی حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔
ضلع کے انتظامی افسر شراون ورما نے کہا کہ حکام نے اسکریننگ کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیمیں تعینات کی ہیں اور پانی کو صاف کرنے کے لیے کلورین کی گولیاں تقسیم کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے 8,571 افراد کی اسکریننگ کی ہے اور 338 افراد کی ہلکی علامات کی نشاندہی کی ہے۔










