دنیا
1 منٹ پڑھنے
چین اور جنوبی کوریا: مشترکہ بحری مشقوں کی بحالی پر بات چیت
بیجنگ اور سیول کے دفاعی حکام کے درمیان ملاقات بحری تلاش و بچاؤ کی مشترکہ مشقوں کے دوبارہ آغاز کے امکان پر بات چیت
چین اور جنوبی کوریا: مشترکہ بحری مشقوں کی بحالی پر بات چیت
فائل تصویر: بوسان میں گمہے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب چین نواز حامی چین اور جنوبی کوریا کے پرچم تھامے ہوئے۔ / Reuters
13 گھنٹے قبل

چین اور جنوبی کوریا کے دفاعی حکام نے پندرہ سالہ وقفے کے بعد، بحری تلاش و بچاؤ کی مشترکہ  مشقوں 'SAREX' کے دوبارہ آغاز  پر، بات چیت کی ہے۔

یہ ملاقات، 3 سال سے زائد عرصے کے بعد، بروز جمعرات بیجنگ میں منعقدہ 21ویں دوطرفہ دفاعی پالیسی اجلاس کے دوران طے پائی ۔

مذاکرات میں دونوں فریقین نے دفاعی تعاون کی بحالی کی کوششوں کو مثبت قرار دیا، دفاعی حکام کے درمیان روابط کے دائرے کو پھیلانے اور اسٹریٹجک بات چیت کے راستوں کی بحالی کے لیے قریبی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

واضح رہے کہ SAREX مشقیں 2005، 2007 اور 2008 میں منعقد ہوئی تھیں، جبکہ آخری مشقیں 2011 میں کی گئیں تھیں۔

رواں سال ماہِ جنوری کے اوائل میں جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ اور چین کے صدر شی جن پنگ  کے درمیان سربراہی مذاکرات ہوئے۔دونوں صدور نے  دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور حل  کے منتظر مسائل کو حل کرنے کے لئے کاروائیاں شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

حالیہ ملاقات اسی اتفاق کے حوالے سے طے پائی ہے۔

دریافت کیجیے
بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری، ہلاکتوں کی تعداد 250 تک پہنچ گئی
مہاجر کشتی یونانی ساحلی گارڈ کے جہاز سے ٹکرا گئی ، کم از کم 14 افراد ہلاک
شام کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری امن کی ضمانت ہے:ترکیہ
بھارت میں ’نیپا‘ وائرس کا پھیلاؤ
انڈونیشیا: سیمرو آتش فشاں پہاڑ میں سات دھماکے
جاوا میں لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 85 تک پہنچ گئی
سعودی-ترک سرمایہ کاری فورم شروع ہو گیا
یوکرین، روس اور امریکی نمائندے ابو ظہبی میں امن مذاکرات میں شرکت
13 سالہ آسٹریلوی بچے نے اپنے خاندان کو بچانے کے لیے گھنٹوں تک تیراکی کی
شام: وائے پی جی نے 23 شامی شہریوں کو حراست میں لے لیا
متحدہ عرب امارات: ہم جنگ کے حق میں نہیں، امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کریں
نامعلوم ڈرون اسلحہ گودام کے قریب تباہ،پولش فوج چوکناہو گئی
فلسطینیوں کا دوسرا گروپ رفح بارڈر کے راستے غزہ واپس لوٹ آیا
شام: داخلہ سلامتی دستے قامشلی میں داخل ہو جائیں گے
جرمنی: یورپ کو زیادہ خود مختار اور باہم متحدہ ہو جانا چاہیئے