دنیا
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل: مصر کی فوجی طاقت پر نظر رکھنا ضروری ہے
مصر کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں لیکن ہمیں عسکری طاقت میں حد سے زیادہ اضافے کو روکنا ہوگا: نیتن یاہو
اسرائیل: مصر کی فوجی طاقت پر نظر رکھنا ضروری ہے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکہ کو ایرانی حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور تہران کی میزائل صلاحیتوں کو ختم کرنے پر اکسا رہا ہے۔ (فائل فوٹو) / Reuters

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے مصر کی عسکری صلاحیتوں میں اضافے کے بارے میں خبردار کیا اور کہا ہے کہ ان پر بغور نگاہ رکھی جانی چاہیے۔

روزنامے 'اسرائیل ہایوم' کے مطابق نیتن یاہو نے مصر کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں خبردار کیا اور کہا  ہے کہ میں نہیں جانتا صدر ٹرمپ کا ایران کے بارے میں  حتمی فیصلہ  کیا ہو گا۔

خبر کے مطابق  نیتن یاہو نے جمعرات کو کنیسٹ کی خارجہ اور دفاعی کمیٹی کے بند کمرے کے اجلاس میں کہا ہے کہ مصری فوج اپنی قوت بڑھا رہی ہے، اور اس کو نگرانی میں رکھنا ضروری ہے۔ مصر کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں لیکن ہمیں عسکری طاقت میں حد سے زیادہ اضافے کو روکنا ہوگا"۔

خبر کے لئے اخبار کے استعمال کردہ  ذرائع  کے مطابق یہ بیانات  اسرائیل ۔مصر  تعلقات کی حساسیت پر جاری مباحث کے دوران  جاری کئے گئے ہیں۔

مذکورہ تنبیہ کے باوجود، دسمبر میں اسرائیل اور مصر کے درمیان تقریباً 35 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے گئے اور  نیتن یاہو نے اسے اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ قرار دیا تھا۔

علاقائی کشیدگی میں اضافہ

چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، اسی کمیٹی اجلاس کے دوران نیتن یاہو نے ایران اوراسرائیل کی  امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے معاملات پر بھی بات کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی  واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگی "ممکنہ حد تک اعلیٰ ترین  سطح" پر ہے۔ تاہم  انہوں نے ٹرمپ کے ایران سے متلعقہ  حتمی موقف کےبارے میں  غیر یقینی کیفیت کا   اعتراف بھی  کیا ہے۔

اسمبلی ممبران سے خطاب میں نیتن یاہو نے   کہاہے کہ ایرانی حکومتی نظام کے زوال کا سبب بننے والے انتہائی اہم مرحلے  لئے موزوں حالات  پیدا ہو رہے ہیں تاہم فی الحال یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ مرحلہ تہران حکومت کا تختہ اُلٹ سکے گا یا نہیں۔  

نیتن یاہو نے یہ بھی کہا ہے  کہ اگر اسرائيل پر حملہ ہوا تو ہم، ایران کے خلاف "بہت بڑا اور سخت" حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس دفعہ کی کوئی بھی جوابی کاروائی گذشتہ جون کی کاروائی سے ہر لحاظ سے بڑی ہو گی۔

ازلی دشمن

واضح رہے کہ گذشتہ سال  ان ازلی دشمنوں  کے درمیان  12 روزہ جنگ ہوئی تھی۔

جنگ ایک بھاری  اسرائیلی حملے سے شروع ہوئی جس نے ایرانی عسکری اور جوہری تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔

امریکہ نے بھی تین ایرانی جوہری مقامات پر حملے کر کے اسرائیلی  کارروائیوں میں حصہ لیا اور اس کے بعد ٹرمپ کی طرف سے شروع کردہ ایک جنگ بندی نافذ العمل ہوگئی۔

اپریل 2024 میں، غزہ میں جاری  نسل کشی کے دوران، ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک بھاری  ڈرون اور میزائل حملہ کیا تھا۔

یہ حملہ دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر مہلک حملے کے  جواب میں کیا گیا تھا۔

کئی ماہ  بعد، یکم اکتوبر کو، ایران نے حماس اور حزب اللہ کے رہنماؤں کے قتل کے جواب میں اسرائیل پر 200 میزائل فائر کئے تھے۔

دریافت کیجیے
روسی میزائل اور ڈراون حملوں میں کیف کے قرب و جوار میں 14 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
فلپائن میں 6.3 کی شدّت کا زلزلہ
چین کے شاانشی صوبے میں شدید بارشوں کے باعث ایک لاکھ 15 ہزار لوگوں کی نقل مکانی
ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر معاہدے کے قریب ہیں: رپورٹ
گوئٹے مالا: فیوگو آتش فشاں میں دھماکے
روسی علاقوں پر یوکرینی ڈراونز کی بارش، ماسکو پر حملے میں پانچ افراد ہلاک
نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی یا ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلاء کو مسترد کرتے ہیں: رپورٹ
امریکہ: 65,000 سے زیادہ شہری اپنے گھروں سے نکال گئے
شمالی کوریا: امریکہ اور اس کے اتحادی ایشیا-پیسیفک میں 'نئے سیکیورٹی بحران' کو ہوا دے رہے ہیں
ترکیہ خفیہ سروس کے چیف کی غزہ امن منصوبے پر بحث کرنے کے لیے حماس کے رہنما سے ملاقات
اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں جولائی میں 2,256 حملے کیے
آسٹریلیا: ایچ فائیو برڈ فلو کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر پرندے ہلاک
ایران: عمان کے ساتھ مذاکرات آبنائے ہرمز  سے بحری آمدروفت کے موضوع پر مرکوز ہیں
اسد اقتدار کا خاتمہ شام سمیت خطے کےلیے ناگزیر تھا: احمد الشراع
یوکرین اور روس کے مابین حملوں میں شدت آگئی،متعدد ہلاکتیں